جرمن حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ایک مذہبی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جسے جرمن حکام نے ایرانی حکومت سے روابط کی وجہ سے بند کر دیا تھا اپنے خلاف ملک بدری کا حکم جاری ہونے کے بعد جرمنی چھوڑ دیا ہے۔
علاقائی شمالی ریاست ہیمبرگ کے وزیر داخلہ اینڈی گروٹے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہیمبرگ میں اسلامک سینٹر" کے سابق ڈائریکٹر محمد ہادی مفتاح منگل 10 ستمبر کی شام کو جرمنی سے روانہ ہوئے۔
ستاون سالہ مفتاح جو 2018ء سے مرکز چلا رہے تھے کو 11 ستمبر تک ملک چھوڑنے کے احکامات موصول ہوئے تھے۔
انہیں جرمنی واپس آنے یا بیس سال تک وہاں رہنے کا حق نہیں ہوگا۔ اگر وہ حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو انہیں تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
گروٹے نے کہا کہ مفتاح کی رخصتی ملکی سلامتی کے لیے اچھی خبر ہے۔
جولائی کے آخر میں جرمن حکام نے "ہیمبرگ میں اسلامک سینٹر" کو بند کر دیا، جس میں خاص طور پر ہیمبرگ کی اہم امام علی مسجد جسے "نیلی مسجد" کہا جاتا ہے کو بند کر دیا گیا تھا۔
برلن کا خیال ہے کہ یہ مسجد ایرانی حکومت سے وابستہ ایک ادارہ تھا اور لبنانی حزب اللہ کی سرگرمیوں کا ایک بڑا حامی تھا۔
اس فیصلے سے برلن اور تہران کے درمیان نئی سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی، دونوں ممالک کے سفیروں کو واپس بلا لیا گیا۔
ہیمبرگ میں اسلامی مرکز جسے ایرانی تارکین وطن نے 1953ء میں قائم کیا تھا برسوں سے جرمن انٹیلی جنس سروسز کی فہرست میں شامل تھا۔ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد بنڈسٹاگ کے نمائندوں نے اس مرکز کو بند کرنے کے مطالبات کا اعادہ کیا۔