اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ سرحد پار شام کی طرف سے آنے والے ایک مسلح ڈرون کو روکنے کے جنگی طیاروں کو حرکت میں لایا گیا جنہوں نے شمال میں بحیرہ طبریا کی طرف آنے والے ڈرون کو مار گرایا۔
اس واقعے کے دوران مقبوضہ شام کی گولان کی پہاڑیوں میں سائرن کی آوازیں بھی سنائی دی گئیں۔
فوج نے کہا کہ "گولان میں انتباہات پر عمل کرتے ہوئے اس نے بحیرہ طبریا کے علاقے کے جنوب میں ایک فوجی ڈرون کو روکا، جہاں ڈرون مشرق سے لانچ کیا گیا تھا اور شام کے راستے اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا"۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس واقعے میں "کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘‘۔
دوسری طرف ’العربیہ‘ اور الحدث چینلز کے نامہ نگار نے گولان کے جنوب میں ڈرون کو روکنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "دوسرا ڈرون زیریں الجلیل میں طبریا کے اوپر سے فضائی حدود میں گھس گیا تھا"۔
اس سے قبل بدھ کو ایک عراقی عسکری اتحاد "عراق میں اسلامی مزاحمت" نے اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی اور شمالی اسرائیل پر تین ڈرون حملے کیے ہیں۔
یہ ڈرون ایک ایسے وقت میں مار گرائے گئے جب اس سے قبل منگل کو شامی سوشل میڈیا پر یہ خبر آئی تھی کہ اسرائیلی طیاروں نے ملک کے مغرب میں واقع طرطوس گورنری میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔
لبنان کے پڑوس میں اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح سے تقریباً ایک سال قبل حزب اللہ کے ساتھ محاذ آرائی کے آغاز سے لے کر اب تک کا سب سے زیادہ پرتشدد اور وسیع حملہ جاری رکھا ہوا ہے۔ وزارت صحت مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 564 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 50 بچے اور 94 خواتین شامل ہیں، جبکہ 1835 زخمی ہوئے ہیں۔