شین بیت کا سینیراسرائیلی اہلکاروں کے قتل کی ایک اور ایرانی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ

اسرائیلی پولیس اور شین بیت نے کہا ہےکہ "دو اسرائیلیوں کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں تل ابیب کے شمال میں واقع رامات گان سے گرفتار کیا گیا"۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اسرائیلی پولیس اور داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے’شین بیت‘ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی اہلکاروں کو قتل کرنے کی ایک اور ایرانی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

اسرائیلی پولیس اور شین بیت نے کہا کہ "دو اسرائیلیوں کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں تل ابیب کے شمال میں واقع رامات گان سے گرفتار کیا گیا ہے"۔

عبرانی واللا ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق "شین بیت‘‘ اور لاہاو 433 پولیس یونٹ نے اہم اسرائیلی شخصیات کے خلاف قاتلانہ کارروائیوں کی ایرانی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ ایرانی انٹیلی جنس سروسز سے منسلک رامات گان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کو گرفتار کیا گیا ہے"۔

’شین بیت‘ کے بیان کے مطابق رامات گان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو رقم کے عوض اسرائیل میں سیل چلانے کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔ اپنے ہینڈلرز کی نگرانی میں اس نے جارحانہ کارروائیوں کا ایک سلسلہ انجام دیا۔

یہ کیس ایک گیگ آرڈر کے تحت کی گئی خفیہ تحقیقات کے بعد سامنے آیا۔ شین بیٹ کے تفتیش کاروں کی جانب سے حاصل کردہ انٹیلی جنس معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس ایجنٹ چند ہفتے قبل رامات گان سے اس جوڑے کو پیسوں کے عوض اپنی خدمت میں کام کرنے کے لیے بھرتی کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

انٹیلی جنس اداروں نے انکشاف کیا تھا کہ تہران نے اسرائیلی وزیر اعظم، وزیر دفاع، یا داخلی سلامتی ایجنسی (شن بیت) کے سربراہ کو بیرسبع کی ایک عدالت کے سامنے قتل کرنے کے منصوبے کو انجام دینے کے لیے اسرائیلی موتی مامن کو بھرتی کیا تھا۔

اسرائیلی حکام نے گذشتہ ماہ ایک اسرائیلی یہودی شہری کی گرفتاری کا اعلان اس وقت کیا جب ایران نے بہ ظاہر اسے اسرائیلی وزیر اعظم، وزیر دفاع، یا داخلی سلامتی ایجنسی (شن بیت) کے سربراہ کے قتل کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے بھرتی کیا تھا۔

شین بیت انٹرنل سکیورٹی سروس اور اسرائیلی پولیس نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مشتبہ شخص کو دو بار ایران اسمگل کیا گیا اور تہران کی جانب سے کام کرنے کے عوض رقم فراہم کی گئی۔

جنوبی شہر عسقلان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ مشتبہ شخص پر جمعرات کو فرد جرم عائد کی گئی جس کے بعد اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے (شین بیت) نے تحقیقات کی تفصیلات کا انکشاف کیا۔

تاجر جو طویل عرصے تک ترکیہ میں مقیم رہا

اسرائیلی انٹرنل سکیورٹی سروس (شین بیت) اور پولیس کی تحقیقات کے مطابق مامان ایک کاروباری شخص ہےتھا جو ترکیہ میں طویل عرصے سے مقیم تھا جہاں اس کے ترک اور ایرانی شہریوں کے ساتھ کاروباری اور سماجی تعلقات تھے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس سال اپریل میں مامان نے دو ترک باشندوں کی ثالثی کے ذریعے جن کا نام اسرائیل کی انٹرنل سکیورٹی سروس نے آندرے فاروق اسلان اور جنید اصلان کے نام بتایا تھا ایران میں رہنے والے ایک امیر تاجر ایدی سے ملاقات پر رضامندی ظاہر کی۔ سکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کریں۔

اسرائیل کی داخلی سلامتی سروس کے مطابق مامان نے شام کے قریب ترکیہ کے شہرسمنداگ کا سفر کیا اور ایرانی تاجر کے بھیجے گئے دو نمائندوں سے ملاقات کی۔

سمندگ میں اسرائیلی اور ایرانی مشتبہ شخص نے ایک فون کال کی جب مؤخر الذکر ایران چھوڑنے میں ناکام رہا۔

اسرائیلی اخبارات کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے کہ مئی میں اسرائیلی داخلی سلامتی سروس نے کہا کہ مشتبہ شخص آندرے، جنید اور ایدی کے نمائندوں سے ملنے کے لیے ترکیہ واپس آیا تھا۔

سکیورٹی سروس نے بتایا کہ جب ایرانی تاجر دوبارہ ترکیہ میں ایک میٹنگ کے لیے ایران چھوڑنے میں ناکام رہا۔ مامان مشرقی ترکیہ میں وان شہر کے قریب لینڈ کراسنگ کے ذریعے ایران فرار ہوگیا۔

پیسے یا بندوق مخصوص جگہوں پر رکھنا اور تصویریں لینا

ایران کے اندر مامان نے ایدی اور خواجہ نام کے ایک اور شخص سے ملاقات کی، جس نے خود کو ایرانی سکیورٹی فورسز کے رکن کے طور پر متعارف کرایا۔ تحقیقات کے مطابق مامان نے ایران میں ایدی کے گھر پر ملاقات کے دوران اپنا تعارف اسرائیلی شہری کے طور پر کرایا۔

اس ملاقات کے دوران ایدی نے اسرائیلی مشتبہ شخص کو مشورہ دیا کہ وہ اسرائیل میں ایرانی حکومت کے لیے مختلف کام انجام دے۔ اسے کہا گیا کہ وہ مخصوص جگہوں پر پیسہ یا بندوق رکھے، ہجوم والے عوامی مقامات کی تصاویر لے اور دوسرے اسرائیلی شہریوں کو دھمکیاں دینا شامل ہیں۔

مامان نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے اور ترکیہ اور پھر اسرائیل واپس چلے گئے۔ اگست میں وہ دوسری بار ایران واپس آئے۔ مقامی اخبارات کے مطابق تحقیقات کے مطابق اسے ایک ٹرک کے اندر چھپایا گیا۔ ترکیہ سے لینڈ کراسنگ کے ذریعے ایران میں اسمگل کیا گیا تھا۔

سکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ مامان نے ایدی کے گھر پر ایرانی انٹیلی جنس اہلکاروں سے ملاقات کی۔انہوں نے ان سے کہا کہ وہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع یوآو گیلنٹ، یا شن بیٹ کے سربراہ رونن بار پر"قاتلانہ حملے کرنے پر کام کریں"۔

یہ پیش رفت ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تقریباً دو ہفتے قبل اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے کے جواب میں تہران پر اسرائیلی حملے کے امکانات کے تناظرمیں سامنے آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں