کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں تین مشتبہ عسکریت پسند ہلاک

شورش زدہ علاقے میں کم از کم 500,000 ہندوستانی فوجی تعینات ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارتی فوج نے منگل کو کہا کہ اس کے فوجیوں نے کشمیر میں تین مشتبہ باغیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جب بندوق برداروں نے ایک فوجی قافلے اور ایک ایمبولینس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔

مسلم اکثریتی کشمیر 1947 میں برطانوی حکومت سے آزادی کے بعد سے حریف ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے اور یہاں ایک طویل عرصے سے شورش جاری ہے۔

پاکستان کے ساتھ غیر سرکاری سرحد کے قریب پہاڑی جنوبی علاقے اکھنور میں پیر کو علی الصبح مسلح افراد نے فوجی قافلے پر فائرنگ کر دی۔

فوجیوں نے حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی اور بتایا کہ تین عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ایک بیان میں کہا، "رات بھر چوبیس گھنٹے نگرانی کے بعد آج صبح گولیوں کے ایک شدید تبادلے کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ہماری افواج کو ایک اہم فتح حاصل ہوئی۔ انتھک کارروائیوں اور حکمتِ عملی کی عمدہ کارکردگی تین دہشت گردوں کے خاتمے کا باعث بنی ہے۔"

باغیوں سے لڑنے کے لیے کشمیر میں کم از کم 500,000 ہندوستانی فوجی تعینات ہیں اور اس شورش میں 1989 سے اب تک دسیوں ہزار شہری، فوجی اور باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس ماہ کے شروع میں بندوق برداروں نے ایک تعمیراتی مقام کے قریب سات افراد کو ہلاک کر دیا تھا جہاں چین کی سرحد سے متصل بلند ہمالیائی علاقے لداخ کو جانے والے تزویری مقام پر سرنگ بن رہی ہے۔

جمعہ کو بھارتی حکام نے بتایا کہ فوجی قافلے پر گھات لگا کر کیے گئے حملے میں تین فوجیوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

نئی دہلی باقاعدگی سے پاکستان پر عسکریت پسندوں کو مسلح کرنے اور حملوں میں مدد کرنے کا الزام لگاتا ہے جبکہ اسلام آباد اس کی تردید کرتا ہے۔

فوج کہتی ہے کہ 2019 میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے علاقے کی محدود خود مختاری کو منسوخ کر دینے کے بعد سے اب تک 720 سے زیادہ باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔

تقریباً 12 ملین کی آبادی والے کشمیر کی علاقائی اسمبلی کے لیے اکتوبر کے اوائل میں 2014 کے بعد پہلی بار انتخابات کروائے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں