ایک گمنام آرٹسٹ نے ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر نینسی پیلوسی کے کانسی کے تحفے کی ایک نقل جو کہ پوپ ایموجی کی شکل میں تھی کو’یو ایس کیپیٹل‘ کے قریب نیشنل مال کے پاس رکھ کرایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ڈمی ایک ایسے وقت میں رکھی گئی ہےجب امریکہ میں صدارتی الیکشن کی آمد آمد ہے۔
مجسمے کے نیچے ایک تختی لگائی گئی ہےجس پر لکھا تھا کہ "یہ یادگار ان بہادر مردوں اور عورتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے چھ جنوری 2021ء کو صدر ٹرمپ کے انتخابات کو الٹانے کے لیے ان مقدس ہالوں میں لوٹ مار، پیشاب کرنے کے ساتھ رفع حاجت کی۔ چھ جنوری کے ہیروز بہ طور ناقابل یقین محب وطن اور جنگجو "یہ یادگار ان کی جرات مندانہ قربانیوں اور لازوال میراث کا ثبوت ہے"۔
سیاسی آرٹ کا یہ واحد قطعہ نہیں ہے جو شہر میں رکھا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس سے چند گلیوں کے فاصلے پر لبرٹی اسکوائر میں بھی ایک ایسا ہی آرٹ ماڈل دیکھا گیا ہے۔
مجسمہ ایک "ٹکی ٹارچ" ہے۔ اسے "ڈونلڈ جے ٹرمپ کی پرپیچوئل ٹارچ" کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ والی تختی پر لکھا ہے کہ "یہ یادگار صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان بہت اچھے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جن کے لیے وہ بڑی دلیری سے کھڑے ہوئے جب انہوں نے ورجینیا کے شارلٹس وِل کی طرف مارچ کیا تھا۔ ان کا اشارہ 2017ء اس واقعے کی طرف تھا جس کے بعد ٹرمپ کو سفید فام بالادستی کے علم بردار اور نازیوں کا نیا حامی کہا تھا۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دو نشانوں پر جو کچھ لکھا گیا تھا وہ طنز اورمذاح کی ایک شکل تھی۔ ایک ووٹر نے کہا کہ "پیغام واضح ہے۔ ہمیں یہ یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ 6 جنوری کو دوبارہ ایسا نہ ہو"۔