غزہ جنگ کی کوریج میں جانبداری کی نشاندہی کے لیے 230 اہم شخصیات نے خط لکھ دیا
'بی بی سی' کی ساکھ پر برطانیہ میں ہی سوال اٹھنے لگے
دنیا بھر میں غیر معمولی شہرت اور ساکھ رکھنے والے برطانوی نشریاتی ادارے کی ساکھ پر غزہ میں اسرائیلی جنگ ایک بڑے حملے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ 'بی بی سی' کے اپنے ایک سو سے زائد کارکنوں سمیت برطانیہ کی میڈیا انڈسٹری سے وابستہ کارکنوں، سیاستدانوں اور دیگر اہم 230 افراد نے ایک خط میں بی بی سی پر غزہ جنگ کے حوالے سے جانبداری کی نشاندہی کی ہے۔
230 اہم برطانوی شخصیات کی طرف سے لکھا گیا یہ خط 'بی بی سی' کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوائی کو ارسال کیا گیا ہے ۔
واضح رہے یہ 230 افراد عام برطانوی شہری نہیں ہیں بلکہ ان میں ایک سو سے زیادہ 'بی بی سی' کے اپنے کارکن اور باقی برطانیہ کی میڈیا انڈسٹری کے دوسرے اداروں سے منسلک کارکن ہیں۔ جنہوں نے مشترکہ طور پر 'بی بی سی' کے ڈائریکٹر جنرل کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ کہ اپنی ساکھ اور خبروں کا معیار ٹھیک کرو۔
خط میں کہا گیا ہے کہ 'پبلک براڈ کاسٹر' غزہ جنگ کے حوالے سے درست اور منصفافہ رپوٹس دینے میں ناکام رہا ہے۔ یہ خط سب سے پہلے ' انڈیپینڈنٹ ' کے سامنے آیا تو اس نے لکھا کہ ' بی بی سی' کو پوری معروضیت کے ساتھ لازماً منصفانہ اور درست رپورٹنگ کرنی چاہیے۔
اپنے سربراہ کے نام کھلا خط لکھنے والے 'بی بی سی' کارکنوں میں سے ایک نے ' انڈیپینڈنٹ ' سے بات کرتے ہوئے اپنی شناخت طاہر نہ کرنے کی درخواست کے ساتھ کہا ہم میں سے اکثر اس قدر خوفزدہ ہیں جیسے ہم فالج زدہ ہو گئے ہوں۔
اس طرح کے حالات سے تنگ آکر کئی 'بی بی سی' کارکن ادارے کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کی اس جاری جنگ میں 'بی بی سی' نے دیانتدارانہ رپورٹنگ نہیں کی ہے۔
اس کھلا خط لکھنے والوں میں برطانوی ہاؤس آف لارڈز کی رکن سعیدہ وارثی بھی شامل ہیں۔ جبکہ دوسرے کئی سیاستدان، پروفیسرز اور میڈیا پرسنز شامل ہیں۔ ان میں مورخ ولیم داریمپل ، اداکارہ جیولیٹ سٹیون سن ، سوشیالوجی کی استاد ڈاکٹر کیتھرین ہاپر ، میڈیا مانیٹرنگ سنٹر کی ڈائریکٹر رضوانہ حمید ، ممتاز براڈ کاسٹر جان نیکلسن اور کالم نگار اوئن جونز بھی شامل ہیں۔
خط لکھ کر 'بی بی سی' سے دیانتدارانہ رپورٹنگ کا مطالبہ کرنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ 'بی بی سی' کو اپنے انٹرویوز میں اسرائیلی حکومت اور فوج کے اعلیٰ حکام کو ضرور چلینج کرنا چاہیے۔ خیال رہے ماہ ستمبر میں چئیرمین سمیر شاہ نے کہا تھا کہ 'بی بی سی' کا بورڈ مشرق وسطیٰ کی کوریج کا سنجیدگی سے جائزہ لے گا ۔
یہ مؤقف اس کے بعد سامنے آیا تھا جب اسرائیلی یہودیوں کے ایک گروپ نے کہا تھا کہ 'بی بی سی' اسرائیل دشمنی کے انتہائی تعصب کا شکار ہے اس لیے شکایات کو مناسب طریقے سے ہینڈل نہیں کر پا رہا ہے۔
' بی بی سی' کی اسرائیل کے حق میں جانبدار قرار دیے جانے کے سلسلے میں 'بی بی سی' کو لکھے گئے خط میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ادارتی تقاضوں کو دیکھے۔ اسرائیل بیرونی صحافیوں کو غزہ تک رسائی نہیں دیتا ہے۔ اس لیے غزہ میں حقائق کے حوالے سے ایسا نظام موجود نہیں ہو سکتا جو اسرائیل کے دعووں کی غیر جانبدارانہ تحقیق کر سکیں۔
خط میں اس چھ سالہ فلسطینی بچی کے قتل کیںں کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ 'بی بی سی' نے اپنی خبر کی سرخی میں چھ سالہ فلسطینی بچی کے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل کا ذکر نہیں کیا تھا اور اس کی گمراہ کن سرخی لگائی جو ایک مثال بن گئی۔
'بی ںی سی کےبارے میں تو یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا لیکن 'بی بی سی' کے بہت سے شاگرد ادارے 'بی بی سی' ہی کی طرح ننگے ہیں۔
'بی بی سی' نے سرخی لگائی تھی '6 سالہ ہند رجب غزہ میں مدد کے لیے فون کرنے کے چند دن بعد مردہ پائی گئی' خط میں کہا گیا ہے کہ سرخی میں یہ واضح لکھنا چاہیے تھا کہ اسرائیل نے اسے قتل کر دیا ہے۔
خوف کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرنے والے ' بی بی سی' کے ایک اور کارکن نے کہا ' یہاں فلسطینیوں کو ہمیشہ ناقابل اعتبار ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج کے کارروائیوں اور برے ٹریک ریکارڈ کے باوجود اسی پر اعتبار کیا جاتا ہے۔'