جنگ کے بعد فلسطینی اتھارٹی غزہ پر حکومت کرے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جو بائیڈن انتظامیہ اپنی ذمہ داروں کے خاتمے سے قبل غزہ کی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور نو منتخب صدر کو اقتتدار منتقلی اس حال میں کرنا چاہ رہی ہے کہ غزہ میں جنگ جاری نہ ہو۔ دوسری طرف برطانیہ بھی امریکہ میں انتقال منتقلی سے قبل غزہ کی جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔

برطانوی وزیر مملکت برائے مشرق وسطیٰ ہمیش فاکنر نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک غزہ جنگ کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے بدھ کو ’’ العربیہ‘‘ سے گفتگو میں مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو جنگ کے بعد غزہ پر حکومت کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’انروا‘‘ کا کوئی متبادل نہیں ہے اور دو ریاستی حل دونوں فریقوں کے لیے اہم ہے۔

ان کا ییہ بیان امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے بدھ کے روز کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ اسرائیل نے محصور پٹی میں اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں اور جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ بلنکن نے صحافیوں سے مزید کہا تھا کہ امریکہ غزہ کی پٹی میں حقیقی اور توسیعی جنگ بندی چاہتا ہے تاکہ ضرورت مندوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے حماس پر کچھ حقیقی دباؤ ڈالنا بھی اچھا خیال ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ غزہ کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا بہترین طریقہ جنگ کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انسانی امداد کی رسائی کی ذمہ داری اسرائیل پر ہے۔ بلنکن نے مزید تفصیلات ظاہر کیے بغیر اعلان کیا کہ ان کے ملک نے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے غزہ سے حماس کے جنگجوؤں کے نکلنے کے لیے محفوظ راستے کی پیشکش کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں