اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے جنگی جرائم کی بنیاد پر جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کا خیر مقدم کیا ہے۔ یرغمالیوں کے خاندانوں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے محمد ضیف کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہونے سے لگتا ہے جنگی یرغمالیوں کی آوز سنی گئی ہے۔
یاد رہے محمد ضیف القسام بریگیڈ کے سربراہ ہیں۔ ان کے بارے میں اسرائیلی فوج اور حکومت ایک سے زائد بار یہ دعوی کر چکی ہے کہ وہ اسرائیلی بمباری میں قتل کیے جا چکے ہیں۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے جمعرات کے روز نیتن یاہو وزیر اعظم اسرائیل اور یوو گیلنٹ سابق وزیر دفاع کے غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم میں ارتکاب کو بنیاد بنا کر وارنٹ گرفتاری کیے ہیں۔ جبکہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر القسام بریگیڈ کے حملے کے باعٹ محمد ضیف کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے۔
اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کی نمائندہ یائل ویاس گیورز مین نے کہا ' یرغمالی متاثرین کی آوازیں سنی گئی ہیں۔' انہوں نے کہا ان کے موکلین اس معاملے میں ملا جلا رد عمل دے رہے ہیں۔ کچھ پریشان ہیں کہ ابھی تک یرغمالی رہائی سے محروم ہیں۔ لیکن کچھ خوش ہیں کہ محمد ضیف کا نام بھی وارنٹ گرفتاری والی فہرست میں شامل ہے۔
اسرائیل اس سے قبل دعوی کرتا رہا ہے کہ اس کی فوجی بمباری میں محمد ضیف قتل ہو چکا ہے۔ لیکن اب اسی کے وارنٹ گرفتاری ہوئے ہیں۔ گیورز مین نے کہا وہ سمجھتی ہیں کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ساتھ اسرائیل کو پورا تعاون کرنا چاہیے۔ دوسری جانب نیتن یاہو اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور اسے یہود مخالف فیصلہ قرار دیتے ہیں۔