حزب اللہ کے کفر کلا میں داخل ہونے کے بعد سختی سے نمٹیں گے : اسرائیلی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہونے کے چند گھنٹے بعد اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے جنوبی لبنان میں سرحدی قصبے کفرکلا میں مشتبہ گاڑیوں پر فائرنگ کی ہے۔

اس حوالے سے وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے باور کرایا ہے کہ اسرائیلی فوج کفرکلا میں حزب اللہ کے عناصر کے داخل ہونے کے بعد اسرائیلی فوج بنا کسی رعائت کے سختی سے نمٹے گی۔

آج بدھ کے روز ایک بیان میں کاتز نے زور دے کر کہا کہ ممنوعہ علاقوں کے قریب آنے والے حزب اللہ کے کسی بھی رکن کو گرفتار کرنا لازم ہو گا۔ ان کا اشارہ ان سرحدی دیہات کی جانب تھا جہاں ابھی تک اسرائیلی فوج تعینات ہے۔ ان کے علاوہ وہ سرحدی قصبے بھی جہاں سے فائر بندی معاہدے کے مطابق حزب اللہ کا انخلا عمل میں آنا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان میں ایک ممنوعہ علاقے میں کئی گاڑیوں کا پتا چلایا جس میں مشتبہ افراد سوار تھے۔ اسرائیلی فوج نے ان گاڑیوں پر فائرنگ کر دی۔

ممنوعہ علاقے کے حوالے سے اسرائیلی فوج کا اشارہ کفرکلا کی جانب تھا۔

فوج نے زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کی کوشش کرنے والے ہر عنصر کے خلاف حرکت میں آئے گی۔

ادھر لبنانی ذرائع نے بتایا کہ کفرکلا اور الخیام کے قصبوں کو اسرائیلی توپوں نے گولہ باری کا نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ فائر بندی معاہدہ آج بدھ کو علی الصبح سے نافذ ہو چکا ہے۔ معاہدے کے متن کے مطابق جنگ بندی 60 روز کے لیے ہے جس کے دوران میں اسرائیلی فوج لبنان کے ان سرحدی دیہات سے بتدریج نکل جائے گی جہاں وہ گذشتہ ماہ داخل ہو گئی تھی۔

معاہدے میں مزید کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں تقریبا 5000 فوجی تعینات کیے جائیں گے اور وہاں سے تمام مسلح گروپوں کا (جن میں حزب اللہ اہم ترین ہے) انخلا عمل میں آئے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں