شام میں متوقع طور پر تین منظرنامے ہوسکتے ہیں: مصری دانشور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام میں گذشتہ ہفتے جب ادلب پر مسلح دھڑوں نے اچانک حملہ کیا جس کے نتیجے میں حلب، پھر حمات اور اس کے بعد حمص کے شمالی دیہی علاقوں اور جنوب میں علاقوں پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا۔

اس تناظر میں مصری عسکری تجزیہ نگار کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے مشیر میجر جنرل اسٹاف ہیثم حسین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شام ایران کی پہلی اسٹریٹجک فائل کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایران کی بیرونی سلامتی کے نقطہ نظر سے شام کو نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی فوج کا خاتمہ ایرانیوں کے لیے ایک صدمہ سے کم نہیں ہوگا کیونکہ حلب، حمات اور جنوبی ادلب میں فوجی ڈھانچہ ایرانی پیسوں سے تعمیر کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "یہ سقوط شامی فوج میں افراتفری، کمزوری اور سکیورٹی کی خلاف ورزیوں کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا"۔

عسکری ماہر نے نشاندہی کی کہ ایران نے گذشتہ ادوار میں شام میں موجود اپنے اکثر مشیروں اور رہ نماؤں کو اس خوف سے واپس بلا لیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ حشد ملیشیا کو فاطمیون زینبیون اور حزب اللہ کے عناصر سے نکالنے کے بعد انہیں جنوبی لبنان کے محاذ پر تعینات کردیا تھا۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ روسی افواج نے یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بڑی تعداد میں فوجیوں اور ساز و سامان کو واپس منتقل کردیا تھا۔ اس کے علاوہ روس نے ویگنر گروپ کو بھی واپس بلا لیا تھا۔

متوقع منظرنامے

اگلے مرحلے کے دوران متوقع منظرناموں کے بارے میں مصری عسکری ماہر نے توقع ظاہر کی ہے کہ "پہلا منظر نامہ یہ ہے کہ حزب اختلاف دمشق پر پیش قدمی کرنے اور اس پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز ’ایس ڈی ایف‘ کا مقابلہ کرنے، اسے شکست دینے اورشام کو اسلامک اسٹیٹ میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی‘‘۔

دوسرا منظر نامہ یہ ہے کہ شامی حکومت ان گروہوں کو شکست دینے اور 2016ء کے منظر نامے میں واپس آجائے گا۔

تیسرا منظر نامہ شام کو تین چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر رہا ہے (دمشق میں ایک مرکزی حکومت ہوگی۔ حلب میں ایک اسلامی حکومت اور باقی علاقوں پر ایک کرد حکومت قائم ہوسکتی ہے۔

گذشتہ ہفتے سے ادلب کے مسلح دھڑوں نے اچانک حملہ کیا جس کے نتیجے میں حلب، حمات، حمص کے شمالی دیہی علاقوں اور سویدا کا کنٹرول مقامی دھڑوں کے ہاتھ میں آگیا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق تصادم کے نتیجے میں 800 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 300,000 شہری بے گھر ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں