ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب کی غیر معمولی جیت،گھر میں نظربندی کی درخواست منظور

نجیب پر بدعنوانی کے کئی مقدمات درج ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ملائیشیا کی اپیل کورٹ نے پیر کے روز جیل میں بند سابق وزیرِ اعظم نجیب رزاق کی جانب سے ایک دستاویز دیکھنے کے لیے ایک درخواست منظور کر لی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں گھر پر سزا کاٹنے کی اجازت دی جائے۔ ملک کے سب سے بڑے سکینڈل کے مرکز میں ایک بدنام سابق رہنما کے لیے یہ ایک غیر معمولی جیت ہے۔

اربوں ڈالر کے ون ایم ڈی بی سکینڈل میں جیل میں بند نجیب نے گذشتہ جولائی میں ایک زیریں عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی جس نے ایک شاہی حکم کے وجود اور اس پر عمل درآمد کرنے کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس شاہی حکم کی رو سے وہ گھر میں سزا کاٹنے کے حقدار تھے۔

اس وقت کے بادشاہ السلطان عبداللہ احمد شاہ کی سربراہی میں ملائیشیا کے معافی بورڈ نے گذشتہ سال فروری میں نجیب کی قید کو 12 سے کم کرکے چھے سال کرنے اور اس پر عائد جرمانہ کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس فیصلے پر عوام نے ہنگامہ آرائی کی تھی۔

تاہم نجیب اس مؤقف پر قائم رہے کہ سابق بادشاہ نے فیصلے کے ساتھ ہی گھر میں نظربندی کا "اضافی حکم" جاری کیا تھا لیکن حکام نے کبھی اس پر عمل نہیں کیا۔

پیر کو دو سے ایک کے فیصلے میں اپیل کورٹ نے نجیب کی درخواست منظور کر لی کہ زیریں عدالت کی جانب سے ان کی سابقہ درخواست کو خارج کر دیا جائے۔ کیس ایک مختلف جج کی سماعت کے لئے ہائی کورٹ میں واپس آئے گا۔

نجیب کے وکیل محمد شفیع عبداللہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا، "وہ خوش تھے۔۔ بہت مطمئن تھے کہ آخر کار انہوں نے ناانصافی کے اس عنصر کو پہچان لیا جو ان کے ساتھ کی گئی ہے"۔

'صحیح اور مستند'

حیرت انگیز طور پر جب پیر کو عدالت کا اجلاس جاری تھا، نجیب کے ایک معاون نے چار جنوری کو السلطان عبداللہ کے محل کے دفتر سے جاری کردہ ایک خط میڈیا کو دکھایا جس میں کہا گیا تھا کہ نجیب کو گھر میں نظربند کرنے کا شاہی حکم "درست اور مستند تھا۔"

محل کے دفتر نے رائٹرز کو چار جنوری کے خط کی صداقت کی تصدیق کی جس میں محل کی جانب سے شاہی خاندان کے وجود کا پہلا عوامی اعتراف تھا جو بادشاہ کے پانچ سالہ دورِ حکومت کے اختتام سے عین قبل جاری کیا گیا تھا۔

آئین کے مطابق ملائیشیا کے منفرد نظام بادشاہت کے تحت ہر پانچ سال بعد تبدیل ہونے والے بادشاہ کو اختیار ہے کہ وہ معافی بورڈ کے مشورے پر معافی دینے کا فیصلہ کرے۔

محل کے مطابق جاری کردہ ضمیمہ آرڈر پر تبصرے کے لیے معافی بورڈ کے رکن اور اٹارنی جنرل کے دفتر سے درخواست کی گئی جس کا فوری طور پر جواب نہیں ملا۔

نجیب کو 2020 میں ریاستی فنڈ ون ایم ڈی بی کے ایک یونٹ سے غیر قانونی طور پر فنڈز حاصل کرنے کے لیے اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی اور اختیارات کے غلط استعمال کا مجرم پایا گیا تھا۔

نجیب پر ون ایم ڈی بی سے منسلک بدعنوانی کے کئی دیگر مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ انہوں نے غلط کاموں سے مسلسل انکار کیا ہے۔

ملائیشیا اور امریکی تفتیش کاروں کا اندازہ ہے کہ ون ایم ڈی بی سے 4.5 بلین ڈالر چوری کیے گئے اور نجیب سے منسلک اکاؤنٹس میں ایک بلین ڈالر سے زیادہ رقم کی منتقلی ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں