ایران میں سال 2024 کے دوران 901 ملزمان کو پھانسی دی گئی : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ نے ایران میں پھانسی کی سزا پانے والے ملزمان کے حوالے سے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے پچھلے سال کے دوران مجموعی طور پر 901 افراد کو پھانسی دی گئی ہے۔ جبکہ ماہ دسمبر کے اکیلے مہینے میں چالیس افراد کو پھانسی گھاٹ تک پہنچایا گیا۔

واضح رہے امریکہ اور یورپی ملکوں میں ملزمان کو عام طور پر لمبی سزائے قید سنائی جاتی ہے۔ جبکہ ایران ان ملکوں میں شامل ہے جہاں سزائے موت کی سزا بھی دیے جانے کا سلسلہ اس کے باوجود جاری ہے کہ امریکہ اور مغربی دنیا سزائے موت کے خلاف دعوی رکھتی ہے۔

سزائے موت، پھانسی اور سر کو سزا کے طور تن سے جدا کرنے کو مغربی دنیا اب ظالمانہ قرار دیتی ہے۔ البتہ دوسرے طریقوں سے انسانوں کو قتل یا ہلاک کرنے کا کئی پہلووں سے جواز پیش کرتی ہے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ نے ایران میں سال بھر کے دوران 901 ملزمان کو پھانسی دیے جانے پر دل گرفتگی ظاہر کی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے منگل کے روز کہا ' یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ ہم آج بھی ایران میں سزائے موت دینے کے واقعات میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ جیسا کہ 2024 میں ایران میں 900 سے زائد لوگوں کو پھانسی چڑھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ' ہم نے ایران میں پھانسیوں کی اس مسلسل بڑھتی ہوئی لہر کو روکا ہے۔ لیکن ایران قتل، منشیات کی اسمگلنگ اور عصمت دری سمیت بڑے جرائم کے لیے سزائے موت کا استعمال کرتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران چین کے علاوہ تمام دوسرے ملکوں کے مقابلے میں ہر سال زیادہ لوگوں کو سزائے موت دیتا ہے۔ تاہم اس بارے میں کوئی قابل اعتماد اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

مغربی ملکوں کے حمایت یافتہ انسانی حقوق ورکر ایران میں پھانسیوں کے اضافے سے خبر دار کرتے رہتے ہیں۔
ایک انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق پچھلے سال کے دوران خواتین کو پھانسیاں دینے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر 31 خواتین کو پھانسی دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں