اطالوی صحافی سیسیلیا سالا کو ایران میں نظربندی سے رہا کر دیا گیا ہے اور وہ گھر پہنچ رہی ہیں، اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کے دفتر نے بدھ کو بتایا۔
اٹلی سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ سالا باقاعدہ صحافتی ویزا کے تحت کام کر رہی تھیں لیکن انہیں 19 دسمبر کو تہران میں حراست میں لیا گیا اور ایرانی دارالحکومت کی بدنامِ زمانہ ایون جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔
ایرانی تاجر محمد عابدینی کی میلان میں امریکی وارنٹ پر گرفتاری کے تین دن بعد سالا کو پکڑا گیا تھا۔ عابدینی کے بارے میں واشنگٹن نے کہا کہ انہیں ڈرون کے پرزے فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جو 2024 کے حملے میں استعمال کیے گئے تھے۔ اس حملے میں اردن میں تین امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
اطالوی بیان میں کہا گیا ہے کہ سالا کو "سفارتی اور انٹیلی جنس چینلز پر شدت سے کیے گئے کام کی بدولت رہا کیا گیا ہے۔" اس نے عابدی کیس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس معاملے کی معلومات رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ عابدینی بدستور میلان کی جیل میں قید ہیں۔
میلونی نے ایکس پر کہا، "میں ہر ایک کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے سیسیلیا کی واپسی کو ممکن بنانے میں مدد کی۔" اطالوی وزیرِ اعظم سے توقع ہے کہ جب سالا بدھ کے روز روم پہنچیں گی تو میلونی ذاتی طور پر ان کا استقبال کریں گی۔
سالا آئی ایل فگلیو اخبار اور پوڈ کاسٹ کمپنی کورا میڈیا کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کی فوری رہائی میلونی کے لیے ایک سفارتی کامیابی کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں ہفتوں تک کیس چلنے کا خدشہ تھا۔
اطالوی رہنما نے ہفتے کے آخر میں نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے فلوریڈا کا اچانک دورہ کیا تھا۔
ایک اطالوی اخبار نے اطلاع دی کہ ٹرمپ نے سالا کی رہائی محفوظ بنانے کے لیے ایک معاہدے کیا تھا کہ ان کے 20 جنوری کو کرسی صدارت سنبھالنے سے قبل یہ رہائی ہو جائے۔ میلونی کے دفتر نے اس اطلاع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
حالیہ برسوں میں ایران کی سیکورٹی فورسز نے درجنوں غیر ملکیوں کو زیادہ تر جاسوسی اور سکیورٹی سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو عابدینی کی حراست کو یرغمال بنانے کے مترادف قرار دیا تھا۔