امریکہ میں وسیع کارروائی میں گرفتاریاں، سینکڑوں ملک بدر: ٹرمپ پریس آفس
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں غیر ملکیوں کے اخراج کا وعدہ کیا تھا
جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پریس سکریٹری نے کہا کہ ان کی دوسری انتظامیہ کے چند ہی ایام میں امریکی حکام نے ایک بڑی کارروائی میں 538 غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کیا اور سینکڑوں کو ملک بدر کر دیا۔
کیرولین لیویٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "ٹرمپ انتظامیہ نے 538 غیر قانونی تارکینِ وطن مجرموں کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینکڑوں" کو فوجی طیارے کے ذریعے ملک بدر کیا گیا۔
اس نے کہا، "تاریخ میں ملک بدری کی سب سے بڑی کارروائی بخوبی جاری ہے۔ جو وعدے کیے گئے تھے، وہ پورے ہوئے۔"
ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی نقلِ مکانی کے خلاف کریک ڈاؤن کا وعدہ کیا تھا اور اپنی دوسری صدارتی میعاد کے آغاز میں ہی ایسی کارروائیاں کی ہیں جن کا مقصد امریکہ میں داخلے پر پابندی بحال کرنا تھا۔ ہزاروں غیر دستاویزی تارکین وطن غیر یقینی صورتِ حال کا شکار اور ملک گیر چھاپوں سے خوفزدہ ہیں جن کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ غیر ملکیوں کے اخراج کی ایک لہر آئے گی۔
انہوں نے احکامات پر دستخط کر کے جنوبی سرحد پر "قومی ہنگامی صورتِ حال" اور "جرائم پیشہ اجنبیوں" کو ملک بدر کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں مزید فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔
جمعرات کے اوائل میں نیوارک شہر کے میئر راس جے باراکا نے ایک بیان میں کہا کہ امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایجنٹوں نے "ایک مقامی جگہ پر چھاپہ مارا اور بغیر کسی وارنٹ کے غیر دستاویزی رہائشیوں اور شہریوں کو حراست میں لے لیا"۔
ہفتے کے شروع میں ریپبلکن کے زیرِ قیادت امریکی کانگریس نے مقدمے کی سماعت سے پہلے غیر ملکی مشتبہ مجرمان کی قید میں توسیع کے لیے ایک بل کی اجازت دی۔