مغربی کنارے میں اسرائیلی حملے میں 10 افراد ہلاک، ہم جنین سے فوج نہیں نکالیں گے:وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین پر اسرائیلی حملے میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں 10 فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ ہلاکتیں شمالی مغربی کنارے کے قصبے طمون میں نوجوانوں کے ایک گروپ پر کی گئی بمباری کے دوران ہوئیں۔

طوباس کے گورنر احمد صالح نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ بمباری "اسرائیلی ڈرون" کے ذریعے کی گئی۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس حملے میں فلسطینی "عسکریت پسندوں" کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ"ایک اسرائیلی طیارے نے جنرل سیکورٹی سروس (شاباک) کی انٹیلی جنس کی ہدایت پر طمون کے علاقے میں ایک مسلح دہشت گرد سیل کو نشانہ بنایا"۔

اسرائیلی فوج اکثر شمالی مغربی کنارے میں فلسطینی اہداف پر حملے کرتی رہتی ہے۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج شمالی مغربی کنارے میں واقع شہر میں موجودہ فوجی آپریشن کے خاتمے کے بعد بھی جنین شہر میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ "جنین میں پناہ گزین کیمپ اب کبھی پہلے جیسا نہیں ہوگا"۔

اسرائیلی فوج نے 21 جنوری کو جنین میں "آئرن وال" کے نام سے ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق آپریشن کے باعث جنین کے علاقے میں 16 افراد ہلاک ہوئے، جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔

ٹز نے بیان کیا کہ آپریشن آئرن وال کا مقصد مسلح دھڑوں کے "انفراسٹرکچر" کو تباہ کرنا ہے جو فلسطینی کیمپوں میں ایرانی فنڈنگ اور آلات سے بنائے گئے تھے۔

کاٹز نے فلسطینی اتھارٹی پر جو مغربی کنارے کے کچھ حصوں کا انتظام چلاتی ہے پر "دہشت گردی کی مالی معاونت" کا الزام بھی لگایا۔

تاہم اسرائیلی آپریشن شروع ہونے سے قبل فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کئی ہفتوں سے جنین میں عسکریت پسندوں کے خلاف تعینات تھیں اور دونوں جانب سے جانی نقصان ہوا تھا۔

اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔آج غرب اردن کی 30 لاکھ فلسطینی آبادی کے درمیان تقریباً سات لاکھ اسرائیلی آباد کار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں