پاکستانیوں سمیت 10 تارکینِ وطن کی گوانتاناموبے منتقلی روکنے کے لیے وکلا کی جانب سے مقدمہ
افغان اور پاکستانی تارکین وطن طالبان کی دھمکیوں سے بھاگ کر آئے، حالات ناقابلِ بیان
شہری حقوق کے وکلاء نے ہفتے کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا تاکہ اسے امریکہ میں زیرِ حراست 10 تارکین وطن کو گوانتانامو بے، کیوبا منتقل کرنے سے روکا جائے۔ گروپ نے ان قیدیوں کے بیانات درج کروائے جنہوں نے کہا کہ وہاں انہیں بدترین حالات میں رکھا گیا جبکہ ایک قیدی نے اسے "زندہ جہنم" قرار دیا۔
اس وفاقی مقدمے سے ایک ماہ سے بھی کم عرصے پہلے انہی وکلاء نے تارکینِ وطن تک رسائی کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا جو امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہنے کے بعد پہلے ہی کیوبا کے بحری مرکز میں نظر بند تھے۔ دونوں مقدمات کو امریکن سول لبرٹیز یونین کی حمایت حاصل ہے اور یہ واشنگٹن میں دائر کیے گئے ہیں۔
وکلاء نے گوانتاناموبے میں بدستور قید دو افراد کے ہسپانوی سے انگریزی میں ترجمہ شدہ بیانات بھی جمع کروائے، چار افراد کو فروری میں وہاں رکھا گیا اور وینزویلا واپس بھیج دیا گیا اور وینزویلا کے ایک مہاجر کو واپس ٹیکساس بھیج دیا گیا۔
آدمیوں نے بتایا کہ انہیں تنگ، کھڑکیوں کے بغیر کمروں میں رکھا گیا تھا جہاں چوبیس گھنٹے بتیاں جلتی تھیں، نیند میں خلل پیدا ہوتا تھا اور ان کی خوراک اور طبی نگہداشت تک رسائی ناکافی تھی۔ ایک آدمی نے وہاں خودکشی کی کوشش کی اطلاع دی اور دو نے کہا کہ انہیں دوسروں کی ایسی ہی کوششوں کا علم تھا۔ ان افراد نے بتایا کہ تارکینِ وطن کو عملہ زبانی اور جسمانی زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔
وینزویلا واپس بھیجے گئے گوانتانامو کے سابق قیدی راؤل ڈیوڈ گارسیا نے کہا، "زندہ رہنے کی خواہش کا ختم ہو جانا آسان تھا۔ مجھے پہلے بھی میکسیکو میں اغوا کیا گیا تھا اور وہاں کم از کم میرے اغوا کاروں نے مجھے اپنے نام بتائے تھے۔"
وینزویلا واپس بھیجے گئے ایک اور سابق نظربند شخص جوناتھن الیجینڈرو الویاریس آرمس نے اطلاع دی کہ ساتھی نظربندوں کو بعض اوقات پانی دینے سے انکار کر دیا جاتا تھا یا سزا کے طور پر "کئی گھنٹوں تک کمرے کے باہر کرسی پر باندھ دیا جاتا تھا۔"
نیو میکسیکو میں دائر ایک الگ وفاقی مقدمے میں ایک وفاقی جج نے نو فروری کو وینزویلا سے تین تارکینِ وطن کی اس حالت میں گوانتانامو بے منتقلی روک دی۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ گوانتانامو بے میں ہزاروں ’بدترین‘ لوگوں کو رکھا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس اور دفاع اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکموں نے ہفتے کے روز تازہ ترین قانونی چارہ جوئی کے بارے میں تبصرہ کرنے کی ای میلز کا فوری جواب نہیں دیا۔ دونوں ایجنسیاں مدعا علیہان میں شامل ہیں۔
ٹرمپ نے امریکہ میں مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کا وعدہ کیا اور کہا ہے کہ گوانتانامو بے میں جسے "گٹمو" بھی کہا جاتا ہے، ان جیسے 30,000 افراد تک کے لیے جگہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کیوبا کے مرکز پر "بدترین" یا زیادہ خطرناک "مجرم غیر ملکی" بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انتظامیہ نے اس بارے میں کوئی خاص معلومات جاری نہیں کیں کہ کس کو منتقل کیا جا رہا ہے اس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ ان پر امریکہ میں کن جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے اور آیا انہیں عدالت میں سزا سنائی گئی ہے یا محض الزام لگایا یا گرفتار کیا گیا ہے۔
کم از کم 50 تارکین وطن کو پہلے ہی گوانتانامو بے منتقل کیا جا چکا ہے اور شہری حقوق کے وکلاء کا خیال ہے کہ اب یہ تعداد 200 کے قریب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ امریکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ حکومت نے غیر شہریوں کو وہاں سول امیگریشن کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔ کئی عشروں سے بحری مرکز کو بنیادی طور پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے متعلق غیر ملکیوں کو حراست میں لینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ایک علیحدہ فوجی حراستی مرکز میں کبھی 800 افراد تھے لیکن یہ تعداد گھٹ کر 15 رہ گئی ہے جن میں 9/11 کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد بھی شامل ہیں۔ ناقدین برسوں سے کہتے رہے ہیں کہ یہ مرکز قیدیوں کے لیے خراب حالات کے باعث بدنام ہے۔ اقوامِ متحدہ کی انسپکٹر کی 2023 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ زیرِ حراست افراد کو "موجودہ ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک" کا سامنا کرنا پڑا جبکہ امریکہ نے ان کی زیادہ تر تنقید کو مسترد کر دیا تھا۔
تارکینِ وطن کہتے ہیں کہ امریکہ آنے سے پہلے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا دھمکیاں دی گئیں۔
تازہ ترین مقدمے میں شامل 10 افراد 2023 یا 2024 میں امریکہ آئے تھے جن میں سے سات کا تعلق وینزویلا سے اور باقی کا افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تھا۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ افغان اور پاکستانی تارکینِ وطن طالبان کی دھمکیوں سے فرار ہوئے اور وینزویلا کے دو شہریوں کو وہاں کی حکومت نے ان کے سیاسی خیالات کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ وینزویلا کے ایک باشندے والٹر ایسٹیور سالزار نے کہا کہ سرکاری اہلکاروں نے انہیں اس وقت اغوا کر لیا جب انہوں نے اپنے قصبے کی بجلی منقطع کرنے کے حکم پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
"اہلکاروں نے مجھے زد و کوب کیا، میرا گلا دبایا اور آخر کار مجھے گولی مار دی۔ میں بمشکل زندہ بچ سکا۔"
سالزار نے کہا، مجھے امریکہ میں نشے کے زیرِ اثر گاڑی چلانے کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے جس کا مجھے بہت افسوس ہے جبکہ وینزویلا کے ایک اور شخص نے کہا کہ اس کے خلاف گھریلو تنازعہ سے منسلک الزامات خارج کر دیئے گئے۔
آدمیوں کے وکلاء نے الزام لگایا کہ گوانتاناموبے میں بھیجے گئے کئی لوگوں کا سنگین مجرمانہ ریکارڈ یا کوئی بھی مجرمانہ پس منظر نہیں ہے۔
وینزویلا کے چار لوگوں نے کہا کہ ان پر ٹیٹو کی بنیاد پر گینگ ممبر ہونے کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا اور ایک شخص نے کہا تھا کہ اس کا ٹیٹو کیتھولک تسبیح کا تھا۔
وکلاءنے کہا ہے کہ گوانتانامو بے منتقلی آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔
تازہ ترین مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منتقلی مردوں کے قانونی عمل کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہے جس کی امریکی آئین کی پانچویں ترمیم میں ضمانت دی گئی ہے۔
مقدمے میں یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ وفاقی امیگریشن قانون غیر کیوبا مہاجرین کی امریکہ سے گوانتاناموبے میں منتقلی سے روکتا ہے: کہ امریکی حکومت کے پاس لوگوں کو اپنی سرزمین سے باہر رکھنے کا کوئی اختیار نہیں ہے؛ اور بحری مرکز قانونی طور پر کیوبا کا حصہ ہے۔ منتقلی کو بھی صوابدیدی قرار دیا گیا ہے۔
ان کے 12 فروری کو دائر کردہ پہلے مقدمے میں کہا گیا کہ گوانتانامو بے کے قیدی "مؤثر طریقے سے نگاہوں سے غائب ہو گئے" اور وہ وکلاء یا اہلِ خانہ سے رابطہ نہیں کر سکے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی محکمے نے کہا کہ وہ فون کے ذریعے وکلاء سے رابطہ کر سکتے تھے۔
وینزویلا کے پہلے زیرِ حراست افراد میں سے ایک یوکر ڈیوڈ سیکیرا نے کہا کہ اسے اے سی ایل یو کو ایک فون کال کرنے کی اجازت تھی لیکن جب اس نے اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کو کہا تو بتایا گیا کہ "یہ ممکن نہیں تھا۔"
ایک موجودہ زیرِ حراست ٹلسو رامون گومیز لوگو نے کہا کہ دو ہفتوں تک وہ "بیرونی دنیا میں کسی سے" بات چیت کرنے کے قابل نہیں تھا جب تک کہ اسے وکلاء کو ایک کال کرنے کی اجازت نہ مل گئی۔
مقدمے میں یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ گوانتاناموبے کے پاس 10 آدمیوں کو رکھنے کا بھی "بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے"۔ گارسیا نے کہا کہ ان جیسے تارکینِ وطن کے مرکز کا کیمپ سکس کے نام سے معروف ایک حصہ جہاں وہ قید تھے، ایسا لگتا ہے کہ "آخری لمحات میں تیار" کیا گیا تھا اور اس کا کام بھی "ختم نہیں ہوا تھا۔"
انہوں نے کہا، "یہ شدید سرد تھا اور مجھے ایسا لگا جیسے میں مرغیوں والے انکیوبیٹر میں پھنس گیا تھا۔"