ایرانی اپوزیشن رہنما مہدی کروبی کی 14 سالہ نظر بندی سے رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے اپوزیشن لیڈر مہدی کروبی کی رہائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ وہ پچھلے 14 سال سے نظر بند ہیں۔ ان کی نظر بندی کی وجہ 2011 میں عرب دنیا میں اٹھنے والی لہر کی حمایت میں ایک ریلی کے انعقاد کی اپیل تھی۔

مہدی کروبی سیاسی اعتبار سے سابق وزیراعظم میر حسین موسوی کے اتحادی ہیں اور ان کی فوری طور پر رہائی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

کروبی کے بیٹے حسین نے اصلاح پسند طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک نیوز ویب سائٹ کو رہائی کا امکان بتایا ہے۔

87 سالہ کروبی اور 83 سالہ موسوی نے 2009 میں شدت پسند احمدی نژاد کے خلاف بڑے احتجاج اور ریلیاں کی تھیں اور ان کے انتخاب کو دھاندلی کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ ان دونوں رہنماؤں کو 2011 میں نظر بند کر دیا گیا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نےاحتجاج کی ایکٹیویٹیز میں حصہ لیا ہے۔

دونوں رہنماؤں پر تب سے اب تک کوئی باقاعدہ مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

مہدی کروبی کے بیٹے نے ویب سائٹ کو بتایا کہ ان کے والد سے سیکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ آپ کی آج پیر کے روز ہی رہائی ہو جائے گی۔

تاہم وہ 8 اپریل تک اپنے گھر میں ہی رہیں گے۔ تاکہ ان کے تحفظ کے ضروری اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ارنا' نے بھی کروبی کی امکانی رہائی کی اطلاع دی ہے۔ تاہم سابق وزیراعظم موسوی کے بارے میں ایسا کچھ تذکرہ نہیں کیا۔

حسین کروبی نے پچھلے سال 'انصاف نیوز' کو بتایا تھا کہ ان کے والد اس وقت تک اپنی رہائی قبول نہیں کریں گے جب تک موسوی کو بھی رہا نہیں کیا جاتا۔

یاد رہے ایران کے موجودہ صدر مسعود پیزشکیان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان دونوں سینیئر سیاستدانوں کو صدر بننے کی صورت میں رہا کر دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں