اسرائیلی فوج حماس تنظیم کو حتمی شکست دینے کی کوشش میں غزہ کی پٹی کا کنٹرول واپس لینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس طرح محصور غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے طویل مدت قبضے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ بات برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" نے بتائی۔
اس حوالے سے منصوبوں سے با خبر کئی افراد نے بتایا ہے کہ مذکورہ تجویز جس کو ابھی اسرائیلی سیکورٹی کابینہ نے منظور نہیں کیا ہے، یہ اسرائیلی فوج کے نئے سربراہ کا فارمولا ہے۔ اسے دائیں بازو کے شدت پسند اسرائیلی وزراء کی غیر سرکاری حمایت حاصل ہے۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق دو اسرائیلی ذمے داران کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کی بدولت یہ منصوبہ ممکن ہو گیا ہے۔ جو بائیڈن انتظامیہ کا اصرار تھا کہ اسرائیل غزہ پر دوبارہ قبضہ یا اس کی اراضی ضم نہ رکے۔
ایک تیسرے اسرائیلی ذمے دار کے مطابق "سابق امریکی انتظامیہ کا ارادہ تھا کہ ہم جنگ ختم کر دیں۔ تاہم ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس میں فتح حاصل کریں۔ حماس کی شکست میں امریکا کا بھی اعلیٰ مفاد ہے"۔
منصوبے کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ پر حملے اور اس پر قبضے کے لیے جنگجو یونٹوں کو طلب کرے گی۔ غزہ کی پٹی کے وسیع رقبوں پر کنٹرول کے بعد وہاں کی 22 لاکھ کی آبادی کو بحیرہ روم کے ساحل پر ایک چھوٹے سے انسانی علاقے میں رہنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔
مذکورہ ذمے داران کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا کے بیس برس بعد دوبارہ غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالے گی یعنی اس پر دوبارہ قبضہ کرے گی۔
اسرائیل نے 1967 میں غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ قبضہ تقریبا چار دہائیوں یعنی 2005 تک جار رہا۔
مشاورت سے با خبر ایک فرد نے بتایا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں تمام انسانی امداد کی تقسیم اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے۔ اس حوالے سے ہر فلسطینی کو مطلوب کیلوریز کا اندازہ لگایا لیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج امداد کی براہ راست یا کنٹریکٹروں کے ذریعے تقسیم پر غور کر رہا ہے تاکہ حماس تنظیم اس سے مستفید نہ ہو سکے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی سے اپنے ایک تہائی بین الاقوامی اہل کاروں کو واپس بلا لے گی۔ یہ فیصلہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی ٹینک کی جانب سے اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر گولا داغنے کے بعد کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک یورپی امدادی کارکن ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوژارک نے بتائی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سات اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کے بعد تنظیم کو تباہ کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔ مقامی ذمے داران کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے اور تقریبا 250 کو یرغمال بنا لیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے جواب میں غزہ کی پٹی کا ایک بڑا حصہ تباہ کر ڈالا۔ اس کے نتیجے میں انسانی بحران پیدا ہو گیا۔ اسرائیلی حملوں میں اب تک 50 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے گذشتہ ہفتے غزہ پر فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کر کے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔