فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کی تصدیق: ایرانی کوچ کی جانب سے 'شاندار' گول کرنے پرطارمی کی تعریف

ازبکستان کے خلاف میچ دو دو سے برابر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

منگل کو ازبکستان کے ساتھ دو دو گول سے برابر رہنے والے میچ میں انٹر میلان کے اسٹرائیکر مہدی طارمی نے دو گول کیے جس کی بنا پر ایران نے 2026 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی فائنل ٹیموں میں جگہ حاصل کر لی۔ اس کامیابی پر ایرانی کوچ امیر قلعہ نوی نے مقابلے پر طارمی کے مثبت اثرات کی تعریف کی۔

گذشتہ موسم گرما میں پورٹو سے مفت ٹرانسفر پر اطالوی ٹیم میں شمولیت کے بعد طارمی کو چوٹ کی وجہ سے ایک غیر مستقل سیزن کا سامنا رہا لیکن ان کے دو گولوں نے تہران میں قومی ٹیم کے لیے انتہائی مثبت اور نمایاں اثر کیا۔

قلعہ نوی نے کہا، "ایک بڑے کھلاڑی کو تکنیکی اور جسمانی طور پر مددگار ہونا چاہیے۔ طارمی انہی میں سے ایک ہیں اور اگرچہ وہ ایک عظیم ٹیم کے لیے کھیلتے ہیں اور ان کی حالت اچھی نہیں ہے جس کے باعث وہ سیزن سے محروم ہو سکتے تھے لیکن انہوں نے میچ کھیلا۔ وہ ٹیم کے ساتھ تھے اور انہوں نے لوگوں کے لیے کھیلا۔"

انہوں نے مزید کہا، "وہ میدان کا بہترین کھلاڑی تھا اور مجھے خوشی ہے کہ زیادہ تر کھیلوں میں وہ ایران کی قومی ٹیم کی طرف سے میدان کا بہترین کھلاڑی ہے۔"

آزادی سٹیڈیم میں مہمان ٹیم کے خواجہ مات ارکینوف کے 16 ویں منٹ میں ابتدائی گول کیا اور برتری حاصل کر لی جسے طارمی نے 52 ویں منٹ میں پہلا گول کر کے منسوخ کر دیا۔

اور جب ایک ہی منٹ بعد عباسسبیک فیض اللھف نے ازبکستان کی برتری بحال کر دی تو یہ طارمی ہی تھے جنہوں نے وقت ختم ہونے سے سات منٹ پہلے قریب سے گول کر کے وہ پوائنٹ حاصل کر لیا جو ایران کو شمالی امریکہ میں فائنل میں اپنی جگہ محفوظ کرنے کے لیے درکار تھا۔

طارمی کا گول سکور کرنے کا مظاہرہ اس وقت سامنے آئی جب اس سے پہلے 32 سالہ نوجوان بیماری کی وجہ سے جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے خلاف میچ کھیلنے سے محروم رہے۔ یہ میچ ایران نے صفر کے مقابلے میں دو گول سے جیتا۔ گروئن کے مسائل کے باعث میلان میں ان کا سیزن متأثر ہوا۔

اب فائنل میں جگہ یقینی ہو جانے کے بعد قلعہ نوی نے توسیع شدہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہلی بار ایرانیوں کو رسائی دلانے پر اپنی نگاہیں مرکوز کر لی ہیں۔

ایران اپنے گذشتہ چھے مقابلوں میں کبھی بھی گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھا اور فائنل میں 18 میں سے صرف تین میچز میں کامیابی حاصل کی۔

قلعہ نوی نے کہا، "اہلیت حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ دوسری ٹیموں کی صلاحیتوں پر ایک نگاہ ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ کھلاڑیوں نے یہ قابلیت مشکل حالات میں حاصل کی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں