تصفیہ کے لیے ٹرمپ کی ٹک ٹاک فروخت کرنے کی شرط، چین نے پیشکش مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

چینی کمپنی سے علیحدگی کے لیے قانون بنائے جانے کے دو ماہ سے زیادہ بعد امریکہ میں ٹِک ٹاک ایپلی کیشن کا معاملہ نئے سرے سے نمایاں ہوکر سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں ٹِک ٹاک پلیٹ فارم کی سرگرمیوں کو فروخت کرنے کے معاہدے کے بدلے چین کے ساتھ کسٹم سمجھوتہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم چین نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک کے معاملے کے بارے میں چینی فریق نے بارہا اپنے موقف پر زور دیا ہے اور اضافی کسٹم ڈیوٹی کو مسترد کرنے کا چینی فریق کا موقف مستقل اور واضح ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ چین کو TikTok سرگرمیوں کی فروخت میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس نے مزید کہا کہ وہ اس فروخت کو پورا کرنے کے لیے ٹیرف میں ایک چھوٹی سی رعایت دے سکتے ہیں۔

دو ماہ قبل 19 جنوری کو ایک امریکی قانون نافذ کیا گیا تھا جس نے ٹک ٹاک ایپلی کیشن کی امریکی شاخ کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بنیادی چینی کمپنی "ByteDance" کے ساتھ اپنی وابستگی منقطع کر دے۔ امریکہ میں اس پلیٹ فارم پر پابندی عائد کرنے کی سزا اس خدشے کے پس منظر میں تھی کہ بیجنگ امریکیوں کی جاسوسی کر سکتا ہے یا خفیہ طور پر امریکی رائے عامہ کو متاثر کر سکتا ہے۔

اس قانون نے پلیٹ فارم کو امریکہ میں گھنٹوں تک استعمال کرنا ناممکن بنا دیا اور ٹک ٹاک ایپ سٹورز سے مکمل طور پر غائب ہوگئی۔ تاہم 20 جنوری کو صدارت سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے اس قانون کو منجمد کر دیا اور بائٹ ڈانس کو اپنی امریکی سرگرمیاں فروخت کرنے کے لیے 75 دن کی ڈیڈ لائن دی جس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ یہ آخری تاریخ 5 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔ اس مدت کے اختتام پر اگر اسے فروخت نہیں کیا جاتا ہے تو اس پلیٹ فارم پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ یاد رہے ٹک ٹاک امریکہ میں بہت مقبول ہے جہاں اسے 170 ملین لوگ استعمال کرتے ہیں۔

ٹک ٹاک مخمصہ

واضح رہے ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور میں قومی سلامتی سے متعلق خدشات کے پیش نظر امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی۔ بہت سی کمپنیوں نے امریکہ میں ٹک ٹاک خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ خریدنے کی پیش یہ جانتے ہوئے کی گئی کہ ByteDance نے اپنا پلیٹ فارم بیچنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ کے ایک حصے کے طور پر ٹرمپ نے اس ماہ کے شروع میں چینی درآمدات پر عائد کسٹم ڈیوٹی میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا جس سے ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کسٹم ڈیوٹی کی کل شرح 20 فیصد ہو گئی۔

دوسری طرف چین نے جواب میں سویابین، سور کے گوشت اور گندم سمیت امریکی زرعی مصنوعات کے ایک گروپ پر 15 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ بیجنگ، دنیا کے سب سے بڑا سٹیل پروڈیوسر، نے بھی امریکہ کی طرف سے سٹیل اور ایلومینیم کی برآمدات پر عائد کسٹم ڈیوٹی کے جواب میں اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں