افغانستان : طالبان کی اخلاقی پولیس نے غیر مناسب ہیئر سٹائل پر کئی افراد کو گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

افغانستان میں اخلاقی اقدار اور سماجی روایات کے تحفظ کے لیے قائم طالبان کی اخلاقی پولیس نے کئی افراد کو غیرمناسب ہیئر سٹائل کی وجہ سے حجام سمیت حراست میں لے لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے رمضان میں مسجد میں نماز ادا کرنے کا اہتمام بھی نہیں کیا۔ یہ بات اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں جمعرات کے روز کہی گئی ہے۔

ایسے واقعات پر حراست کا قانون 6 ماہ پہلے نافذ کیا گیا تھا۔ جس پر اب عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ قانون زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی عملداری قائم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ جن میں پبلک ٹرانسپورٹ میں موسیقی کا استعمال، داڑھی منڈوانا اور اس طرح کی دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔

وزارت کے بیان کے مطابق خواتین کی اونچی آواز کے ساتھ موسیقی میں استعمال یا کسی اور جگہ استعمال بھی ممنوع ہے۔ نیز خواتین پر حجاب کی بھی پابندی ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام نے اس قانون کے سامنے آنے پر انتباہ کیا تھا کہ اس قانون سے ملک میں موجودہ روزگار کے شعبوں خصوصاً تعلیم ، لباس سازی اور دیگر حوالوں سے لوگوں میں پریشانی آئے گی۔ تاہم طالبان حکام نے اقوام متحدہ کی اس تشویش کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ہمارے اخلاقی معیار کو معاشرے میں درست رکھنے کے لیے کیے گئے اقدمات اور بنائے گئے قوانین ہیں۔

جمعرات کے روز سامنے آنے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے 'اس نئے اخلاقی پولیس کے قانون کے تحت اقوام متحدہ کو کم از کم نصف نظر بندیوں پر تشویش ہے۔'

رپورٹ کے مطابق افغانستان کی اخلاقی پولیس لوگوں کو باقاعدگی سے گرفتار کرتی ہے اور اس سلسلے میں قانونی طریقہ کار کے اختیار کرنے میں بھی کوتاہی برتی جاتی ہے۔

یاد رہے رمضان المبارک میں مساجد میں باجماعت نمازوں میں شرکت نہ کرنے کو بھی طالبان پولیس مانیٹر کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے افغانستان میں مشن کے مطابق اس قانون سے خواتین اور مرد یکساں طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ چھوٹے کاروباری لوگ، نجی تعلیمی مراکز، حجام ، درزی حتیٰ کہ شادیوں پر کھانا تیار کرنے والے کیٹرنگ سے متعلقہ افراد اور ادارے متاثر ہو کر اپنی آمدنی کم کر رہے ہیں۔

ان قوانین سے لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی پر بالواسطہ اور بلا واسطہ دونوں طرح سے اثر مرتب ہو رہا ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب افغانستان میں معاشی حالات اچھے نہیں ہیں۔جیسا کہ ورلڈ بنک کی ایک سٹڈی میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کی تعلیم کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن طالبان کے امیر ملا ھیبت اللہ اخوندزادہ کا بنیادی زور ملک میں اسلامی قوانین پر عملدرآمد پر ہے۔

جیسا کہ عید الفطر سے پہلے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ ہم ملک میں کرپشن سے آزاد معاشرہ قائم کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو گمراہ کن خیالات اور عقائد سے محفوظ کریں اور انہیں نقصان دہ اعمال سے بچائیں۔

بتیا گیا ہے کہ ملک میں 3300 سے زیادہ مردوں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس قانون کی عملداری کے حوالے سے لوگوں پر نظر رکھیں اور رپورٹ کریں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وزارت نے ہزاروں لوگوں کے اس طرح کے واقعات کے خلاف دفاع کرنے کے معاملے کو طے کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں