فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں کے 800 ٹھکانوں پر حملے کیے : امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملے جاری ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ فورسز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’الراکب الخشن‘ فوجی آپریشن کے آغاز سے اب تک حوثیوں کے 800 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں حوثی جنگجو اور ان کے کئی اہم کمانڈر، جن میں میزائل اور ڈرون پروگراموں کے اعلیٰ عہدے داران بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "ان حملوں نے متعدد کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، فضائی دفاعی نظاموں، جدید ہتھیاروں کی تیاری کے مراکز اور ہتھیاروں کے ذخائر کو تباہ کر دیا۔ ان میں جدید روایتی ہتھیار شامل تھے، مثلا بیلسٹک میزائل، بحری جہاز شکن کروز میزائل، بغیر پائلٹ فضائی اور بحری جہاز، جو حوثیوں کی بین الاقوامی شپنگ راستوں پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہو رہے تھے"۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "اگرچہ حوثی ہمارے جہازوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ہماری کارروائیوں نے ان کے حملوں کی رفتار اور فعالیت کم کر دی ہے۔ بیلسٹک میزائل داغنے کی کارروائیاں 69 فی صد کم ہو گئی ہیں، جب کہ یک طرفہ ڈرون حملے 55 فی صد کم ہو چکے ہیں۔ امریکی حملوں نے رأس عیسیٰ بندرگاہ پر ایندھن کی آمد کو معطل کر دیا ہے، جس سے حوثیوں کی نہ صرف عملی صلاحیت متاثر ہوئی ہے بلکہ ان کی دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی بھی کم ہو گئی ہے"۔

بیان کے مطابق "15 مارچ سے ایک وسیع اور مسلسل مہم شروع کی گئی ہے جس کا مقصد یمن میں حوثی دہشت گرد تنظیم کو نشانہ بنانا اور سمندری آزادی اور امریکی دفاع کو بحال کرنا ہے۔ یہ کارروائیاں تفصیلی اور جامع انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں تا کہ حوثیوں پر مہلک اثرات ڈالے جائیں اور شہریوں کو نقصان سے بچایا جا سکے"۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "عملیاتی سیکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے ہم اپنی جاری یا مستقبل کی کارروائیوں کی تفصیلات افشا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم اپنے اقدامات میں انتہائی محتاط ہیں، لیکن ہم یہ نہیں بتائیں گے کہ ہم نے کیا کیا ... یا کیا کرنے والے ہیں۔ جب تک حوثی سمندری آزادی میں رکاوٹیں پیدا کرتے رہیں گے، ہم ان پر دباؤ بڑھاتے اور ان کی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرتے رہیں گے"۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ "یہ کارروائی ایک مضبوط عسکری قوت کے ذریعے کی گئی، جس میں دو طیارہ بردار گروپس شامل تھے۔ایک ’ہیری ایس ٹرومین‘ اور دوسرا ’کارل ونسن‘ ... ہمیں اپنی بہترین تربیت یافتہ اور پیشہ ورانہ افواج پر فخر ہے جنہوں نے حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں پر انتہائی درست اور مہلک حملے کیے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ ایران مسلسل حوثیوں کی حمایت کر رہا ہے، اور حوثی صرف ایرانی نظام کی حمایت کے سبب ہماری افواج پر حملے جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہم دباؤ بڑھاتے رہیں گے یہاں تک کہ ہمارا مقصد، یعنی خطے میں سمندری آزادی اور امریکی دفاع کی بحالی، حاصل ہو جائے"۔

اسی حوالے سے حوثی ذرائع نے اطلاع دی کہ امریکی حملوں میں دار الحکومت صنعاء میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

العربیہ نیوز اور ذرائع کے مطابق، امریکی فضائیہ نے صعدہ کے علاقے کِتاف میں اسلحہ کے گوداموں اور صنعاء کے شمال میں بنی الحارث اور شعب ثقبان میں حوثی ٹھکانوں پر حملے کیے۔

اسی طرح عمران کے علاقے حرف سفیان میں حوثی اسلحہ کے گوداموں اور جبل اسود میں مواصلاتی نیٹ ورک پر دو فضائی حملے کیے گئے۔
العربیہ ذرائع نے مزید اطلاع دی کہ امریکی فضائیہ نے تعز کے مغربی علاقے مقبنة میں حوثی فوجی مراکز پر چھ فضائی حملے کیے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ امریکی بحریہ نے المہره کے ساحل پر دو ڈرونز کو روکا، جو حوثی علاقوں سے عرب سمندر کی جانب داغے گئے تھے۔
امریکہ 15 مارچ سے یمن میں حوثیوں پر تقریباً روزانہ فضائی حملے کر رہا ہے۔

ہفتے کے روز بھی ایک امریکی حملے میں مارب کے علاقے صرواح میں حوثیوں کی اسلحہ سے بھری ہوئی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔واضح رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے بڑے حملے کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد ... حوثیوں نے سمندر میں ان بحری جہازوں پر سیکڑوں حملے لیے جو حوثیوں کے مطابق اسرائیل کے ساتھ وابستہ تھے۔

امریکہ نے 15 مارچ 2025 سے یمن میں حوثیوں کے خلاف ایک فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے تاکہ سرخ سمندر اور خلیج عدن میں جہازوں پر ان کے حملے روکے جا سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں