کینیڈامیں قومی انتخابات سےقبل ٹرمپ کاکینیڈا کوامریکہ کی 51ویں ریاست بنانےکا متنازعہ بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کینیڈا کے انتخابات کے دن پر تبصرہ کرتے ہوئے کینیڈا کو اپنی آزادی ترک کرنے اور امریکہ میں شامل کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ’ کینیڈا 51ویں ریاست بن سکتا ہے.برسوں پہلے مصنوعی طور پر کوئی سرحد نہیں کھینچی گئی تھی۔ تصور کریں کہ یہ کتنی شاندار سرزمین ہوگی"۔

ٹرمپ نے لکھا کہ ’ حد کے بغیر مفت رسائی، تمام مثبت، کوئی منفی نہیں۔ بس جس طرح ہونا چاہیے"۔ انہوں نے مزید کہاکہ "امریکہ اب کینیڈا کی سیکڑوں بلین ڈالر سالانہ کے ساتھ مدد نہیں کر سکتا جو ہم ماضی میں خرچ کرتے تھے اب نہیں کریں گے۔ یہ صرف اس صورت میں معنی رکھتا ہے جب کینیڈا امریکہ ایک ریاست بن جائے"۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈین آج انتخابات میں ٹرمپ کے محصولات اور کینیڈا کے ساتھ الحاق کے بارے میں ان کے خیالات کے زیر اثر انتخابی مہم کے بعد انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

ٹرمپ کی دھمکیوں نے قوم پرستانہ جذبات کی ایک لہر کو جنم دیا جس نے دو G7 مرکزی بینکوں کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد سیاسی منظر نامے میں نئے آنے والے لبرل وزیر اعظم مارک کارنی کی حمایت میں اضافہ کیا۔

انتخابی مہم اتوار کو اس وقت سانحے پر ختم ہوئی جب وینکوور میں فلپائنی کمیونٹی کے ایک پروگرام میں ایک شخص نے ’ایس یو وی‘ گاڑی ہجوم پر چڑھا دی تھی جس سے کم از کم 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

ٹرمپ گذشتہ ہفتے کینیڈا کی انتخابی مہم میں ایک بار پھر ایک اہم عنصر کے طور پر ابھرے جب انہوں نے اعلان کیا کہ وہ کینیڈین ساختہ کاروں پر 25 فیصد ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ وہ کینیڈا کو 51 ویں امریکی ریاست بنانے کے لیے "معاشی طاقت" کا استعمال کر سکتے ہیں۔

کارنی نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی مسائل سے نمٹنے کا ان کا تجربہ انہیں ٹرمپ سے نمٹنے کے لیے بہترین رہنما بناتا ہے، جب کہ پولیور نے اپنی مہم کو زندگی کی لاگت، جرائم اور رہائش کے بحران کے خدشات پر مرکوز رکھا.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں