مودی سرکار نے کشمیر میں خوفزدہ بھارتیوں کے لیے خصوصی ٹرین چلادی ،بوریا بسترسمیت دہلی روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں ہفتہ کے روز جنگ سے خوفزدہ بھارتیوں کو واپس نئی دہلی لانے کے لیے خصوصی ٹرین چلائی گئی۔ تاکہ پاکستان کی فضائیہ کے خوفناک حملوں سے انہیں بچایا جا سکے۔

اس موقع پر ریلوے سٹیشن پر بھارتی شہری اپنی بھاری گٹھڑیوں اور بوجھل بیگز کے ساتھ دہلی جاتے ہوئے دیکھے گئے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی صورتحال 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب اس وقت پیدا ہوئی جب بھارت نے پاکستان کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں کم از کم 9 مقامات پر اچانک میزائل حملے اور بمباری کی۔

بھارت کا مؤقف تھا کہ اس نے یہ حملے پاکستان کی مختلف آبادیوں میں دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے کیے ہیں۔ اس دوران پاکستان کے مختلف شہروں پر بھارتی فوج نے ڈرون حملے کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاہم یہ ڈرونز کوئی بڑا نقصان کرنے سے پہلے ہی پاکستان کی طرف سے روکے جاتے رہے۔

پاک فضائیہ کے خوف سے کشمیر چھوڑ کر گھر واپسی کرنے والے بھارتیوں کے ہجوم کو کنٹرول میں رکھنے اور سٹیشن پر بھگدڑ سے مزید نقصان روکنے کے لیے پولیس اہلکار سیٹیاں بجاتے رہے اور ٹرین پر سوار ہونے کے لیے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنے والوں کو روکتے رہے کہ بے ہنگم پن ریلوے سٹیشن پر کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس موقع پر مشرقی و وسطی بھارت سے تعلق رکھنے والے بھارتی کارکن ٹرین پر سوار ہونے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دھکم پیل کرتے رہے اور گالی گلوچ بھی کرتے رہے تاکہ وہ سب سے پہلے ٹرین میں داخل ہو کر اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں۔ یہ ٹرین مودی سرکار نے ان بھارتی شہریوں کے لیے بطور خاص بھیجی تھی تاکہ انہیں بحفاظت دہلی یا ان کے گھروں میں واپس بھیجا جا سکے۔ کیونکہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ یہ بھارتی شہری کشمیر میں رہتے ہوئے حکومت و دیش کی بدنامی کا باعث بنیں گے۔

معلوم ہوا ہے کہ مودی سرکار نے نہ صرف یہ کہ ان بھارتیوں کے لیے خصوصی ٹرین چلانے کا ہنگامی بنیادوں پر فیصلہ کیا بلکہ بغیر کرائے کے انہیں کشمیر سے دہلی پہنچانے کا بھی فیصلہ کیا۔

41 سالہ کرن ورما نامی ایک بھارتی نے بتایا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر میں کئی برسوں سے ایک مستری کا کام کرتا ہے۔ لیکن اب اس کا یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے اور وہ ہر قیمت پر واپس جانا چاہتا ہے۔

اس کا کہنا تھا پچھلی ساری رات دھماکوں اور جہازوں کی گڑگڑاہٹ نے مجھے خوفزدہ کیے رکھا۔ اس لیے اب میرے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ میں یہاں رہنے کے بجائے واپس دیش چلا جاؤں ۔

ریلوے سٹیشن پر کئی ایسے بھارتی بھی ہجوم میں موجود تھے جنہوں نے اپنے بچوں کو گود یں اٹھا رکھا تھا یا ان کی انگلی پکڑ رکھی تھی اور وہ ہجوم کو چیرتے ہوئے ٹرین تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

45 سالہ سوریش کمار کا تعلق مدیھا پردیش سے تعلق ہے ان کا کہنا تھا کہ ایک ٹرین کا چلان اکافی نہیں ہے۔ زیادہ ٹرینی چلانے کی ضرورت تھی لیکن رکار نے صرف ایک ٹرین بھیجی ہے۔ زیادہ ٹرینیں ہوتیں تو لوگ باہم دھینگا مشتی کرتے ہوئے نہ جاتے۔

نیشا دیوی نامی خاتون کے تین بچوں اور ان کے شوہر کو ٹرین میں جگہ نہ مل سکی۔ اس لیے وہ پریشان نظر آئیں۔ ان کا تعلق بہار سے بتایا گیا ہے۔

نیشا دیوی کا کہنا تھا اگر میں اس گاڑی پر بیٹھ جاتی تو یہ ایسے ہی تھا کہ جیسے میں موت کے سفر پر روانہ ہوں کیونکہ ٹرین میں اس قدر رش تھا۔

یاد رہے پاکستان اور بھارت کے درمیان ریاست جموں و کشمیر کے معاملے میں 1947 سے تنازعہ چلا آرہا ہے۔ جبکہ بھارت نے پچھلے 36 سال سے یہاں تقریباً 6 سے 7 لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے۔ تاکہ کشمیریوں کی بھارت سے علیحدگی کی تحریک کو کچلا جا سکے۔ اس کے باوجود کشمیریوں کو خاموش نہیں کرایا جا سکا۔

تاہم 5 اگست 2019 کے بعد مودی سرکار نے کشمیر کی آئین میں دی گئی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اس کا اپنے ساتھ جبری الحاق کر لیا اور بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو کشمیر میں بسیرا کرنے کی اجازت دی۔

کشمیریوں کی طرف سے بھارت سرکار پر الزام لگایا جاتا ر ہا کہ وہ کشمیریوں کی آبادی کا تناسب بدلنے کے لیے مصنوعی کوشش کر رہی ہے جو کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق خصوصاً حق خودارادیت سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔ لیکن 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب شروع ہونے والی پاک بھارت جنگ نے کشمیر میں بسائے گئے بھارتیوں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

تکلال پدمانی لالا دروازے پرریل کی ایک راڈ سے چمٹا ہوا تھا کہ اس کو ریل کے ڈبے میں جگہ نہیں ملی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں 600 کلومیٹر کا سفر کر کے اس طرح بھی دہلی جانے کو تیار ہوں کیونکہ میں اب یہاں نہیں رہ سکتا۔

اس طرح کے خوف میں مبتلا بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد ابھی کشمیر میں موجود ہے لیکن اندازہ نہیں ہے کہ بھارت سرکار ان کے لیے بھی مفت سفر اور خصوصی ٹرین کا اسی طرح بندوبست ہنگامی بنیادوں پر کرے گی یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں