لیبیا کے دار الحکومت طرابلس میں جھڑپیں، چھ افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں پیر اور منگل کی درمیانی شب شدید جھڑپوں کے بعد کم از کم چھ لاشیں ملی ہیں۔ ایک طبی ذرائع نے کم از کم چھ افراد کی موت کا اعلان کیا ہے۔ طرابلس کی حکومت کے فیلڈ میڈیسن سینٹر نے ایک پریس بیان میں کہا کہ دارالحکومت کے جنوب میں واقع ابو سلیم کے علاقے کے گرد و نواح سے چھ لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔

مرکز نے ابو سلیم کے متعدد مقامات پر سفید تھیلوں میں بند متعدد لاشوں کی تصاویر بھی شائع کیں جن کے ساتھ تباہ شدہ بکتر بند گاڑیاں اور فوجی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔ ابو سلیم کی میونسپلٹی اور طرابلس کے جنوب میں واقع علاقوں میں مسلح گروہوں کے درمیان گھنٹوں تک شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

عبدالغنی الککلی کی موت

ابو سلیم میں استحکام سپورٹ سروس سے وابستہ گروپوں کو نشانہ بنانے والی ان جھڑپوں کے نتیجے میں قومی اتحاد کی حکومت کی وزارت دفاع سے وابستہ مسلح گروپوں نے استحکام سپورٹ کے تمام ہیڈ کوارٹرز پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ قومی اتحاد کی حکومت کی قیادت عبدالحمید الدبیبہ کر رہے ہیں۔ استحکام سپورٹ سروس کے سربراہ اور 2011 سے طرابلس کے اہم علاقوں پر قابض اہم ترین مسلح گروپوں کے رہنما عبدالغنی الککلی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ طرابلس کی حکومت کی وزارت دفاع نے تفصیلات بتائے بغیر اعلان کیا کہ فوجی آپریشن ختم ہو گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ نے زور دیا ہے کہ ابو سلیم میں نمایاں مسلح گروہ کے ہیڈ کوارٹرز پر کنٹرول کے حوالے سے جو کچھ حاصل کیا گیا وہ دارالحکومت میں سلامتی کے قیام اور ریاستی اقتدار کے نفاذ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ یاد رہے جون 2020 سے طرابلس میں نسبتاً امن ہے تاہم وقتاً فوقتاً حریف مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں جن کی زیادہ تر وجوہات اثر و رسوخ اور اہم مقامات پر قبضے کے لیے جدوجہد ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں