جرمنی نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر شام کے عوام کو اپنے وطن کی ازسرِنو تعمیر اور ایک آزاد و جمہوری مستقبل کے قیام میں مدد فراہم کرے گا۔
جرمن وزارتِ خارجہ نے "ایکس" پلیٹ فارم پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ "بشارالاسد رجیم کے سقوط کے بعد سے جرمنی مالیات، نقل و حمل اور توانائی کے شعبوں میں عائد پابندیوں کے خاتمے کی حمایت کرتا رہا ہے"۔
Together with our partners we are working hard to help #Syrians to rebuild their country and work on a free & democratic future. Since the fall of the Assad regime, Germany has supported the lifting of sanctions in the areas of finance, transport & energy. 1/2
— GermanForeignOffice (@GermanyDiplo) May 14, 2025
بیان میں جرمنی کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا جس میں انہوں نے شام پر عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جرمنی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ شامی حکومت کے ساتھ مل کر شام میں معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتا رہے گا تاکہ ایک پائیدار معاشی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ شام میں سیاسی انتقالِ اقتدار کا عمل جامع اور سب کو شامل کرنے والا ہونا چاہیے۔
پابندیوں کی ایک طویل فہرست
واضح رہے کہ شام میں 2011ء میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک امریکہ کی جانب سے شامی حکومت، سابق صدر بشارالاسد، ان کے اہلِ خانہ اور کئی وزارتی و اقتصادی شخصیات پر پابندیوں کی ایک طویل فہرست عائد کی گئی۔
سال 2020 ءمیں پابندیوں کی نئی سیریز نافذ کی گئیں۔ ان پابندیوں کا ہدف نہ صرف بشارالاسد کا قریبی حلقہ اور ان کی اہلیہ اسماء الاسد تھیں بلکہ ان کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کیے گئے اور ایسے کسی بھی ادارے یا کمپنی پر بھی پابندیاں لگائی گئیں جو شامی حکومت سے کاروبار کرتا ہو۔
یہ پابندیاں تعمیرات، تیل اور گیس کے شعبوں کو بھی براہِ راست نشانہ بناتی ہیں۔