ایک امریکی-لبنانی شخص کو جمعہ کو ناول نگار سلمان رشدی کو 2022 میں نیویارک کے ثقافتی مرکز میں چاقو سے حملے میں قتل کرنے کی کوشش پر سزا سنائی جائے گی۔
ستائیس سالہ ہادی مطر کو رواں سال فروری میں قتل کی کوشش اور حملہ کے الزامات میں سزا سنائی گئی جس کے بعد اسے 25 سال تک قید کی سزا کا سامنا ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران رشدی نے ججز کو ایک تقریب کے دوران مطر کی جانب سے "چھرا گھونپنے اور مارنے" کے بارے میں بتایا۔
رشدی نے کہا، "یہ میری آنکھ میں چھرا گھونپنے کا زخم تھا، شدید تکلیف دہ۔ اس کے بعد میں درد کی وجہ سے چیخ رہا تھا۔ میں "خون کے تالاب" میں پڑا تھا۔"
مقدمے کی سماعت کے دوران متعدد مواقع پر فلسطینیوں کے حق میں نعرے لگانے والے مطر نے رشدی پر چھے انچ کے بلیڈ سے تقریباً 10 بار وار کیا۔
اس نے پہلے میڈیا کو بتایا کہ اس نے رشدی کی کتاب The Satanic Verses کے صرف دو صفحات پڑھے لیکن اس کا خیال ہے کہ مصنف نے "اسلام پر حملہ" کیا تھا۔
اس ناول میں توہینِ رسالت کے الزام پر ایران میں 1989 کے ایک فتوے میں رشدی کے قتل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مطر کی قانونی ٹیم نے گواہان کو رشدی کو ظلم و ستم کا شکار قرار دینے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔
ایران نے حملہ آور سے کسی بھی تعلق کی تردید کی اور کہا ہے کہ اس واقعے کا ذمہ دار صرف رشدی ہے۔
شدید زخم
حملے میں رشدی کی دائیں آنکھ کا بصری عصب منقطع ہو گیا تھا اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ "یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ آنکھ کو نمی بخشنے کے لیے اسے ٹانکے لگا کر بند کر دیا جائے گا۔ یہ کافی تکلیف دہ آپریشن تھا جس کی میں سفارش نہیں کرتا۔"
ان کے گلے کے گنٹھ پر بھی شدید زخم آیا، ان کے جگر اور چھوٹی آنت کو نقصان پہنچا اور بازو کو شدید اعصابی نقصان پہنچنے کے بعد وہ ایک ہاتھ سے مفلوج ہو گئے۔
برطانوی-امریکی رشدی جو اب 77 سال کے ہیں، کو قریب موجود لوگوں نے مطر سے بچایا۔ گذشتہ سال انہوں نے چاقو کے نام سے ایک یادداشت شائع کی جس میں انہوں نے موت کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ بیان کیا۔
ان کے پبلشر نے مارچ میں اعلان کیا کہ The Eleventh Hour چار نومبر 2025 کو جاری کیا جائے گا جو رشدی کی دلچسپی کے موضوعات اور مقامات کی جانچ کرنے والی مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے۔
رشدی جو ممبئی میں پیدا ہوئے تھے لیکن لڑکپن میں انگلینڈ چلے گئے تھے، اپنے دوسرے ناول مڈ نائٹ چلڈرن (1981) کے ساتھ منظرِ عام پر آئے جس نے آزادی کے بعد کے ہندوستان کی تصویر کشی پر برطانیہ کا باوقار بکر پرائز جیتا تھا۔
لیکن The Satanic Verses پر انہیں بہت زیادہ شہرت ملی جو زیادہ تر ناپسندیدہ تھی۔
رشدی آزادی اظہارِ رائے کے حامیوں اور ان لوگوں کے درمیان ایک شدید لڑائی کا مرکز بن گئے جنہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ توہینِ مذہب خاص طور پر اسلام کی توہین کسی بھی صورت میں ناقابلِ قبول ہے۔
کتابوں اور کتابوں کی دکانوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، اس کے جاپانی مترجم کو قتل اور اس کے نارویجن پبلشر کو کئی گولیاں مار دی گئیں۔
رشدی 1989 کے فتوے کے بعد ایک عشرے تک لندن میں تنہائی میں رہے لیکن گذشتہ 20 سالوں سے — حالیہ حملے تک — وہ نسبتاً عام طور پر نیویارک میں رہتے ہیں۔