ٹرمپ انتظامیہ کا بائیڈن اورمشیر ہور کی ریکارڈ شدہ گفتگو جاری کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی خبررساں ویب سائٹ "پولیٹیکو" نے جمعے کے روز بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ آج ہفتے کے روز، سابق صدر جو بائیڈن اور اُن کے وقت کے خصوصی مشیر رابرٹ ہور کے درمیان خفیہ دستاویزات سے متعلق انٹرویو کی آڈیو ریکارڈنگ جاری کر دی جائے۔

بائیڈن انتظامیہ نے اکتوبر 2023 میں ہونے والے اُن انٹرویوز کی آڈیو جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا، جن کی بنیاد پر ہور نے اُن کے خلاف مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ ہور نے کہا تھا کہ جیوری بائیڈن کو "ایک ہمدرد، نیک نیت، لیکن بوڑھا اور کمزور حافظے والا شخص" تصور کرے گی۔

وائٹ ہاؤس اور ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت نے ہور کے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور سابق اٹارنی جنرل پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی مقاصد کے تحت بائیڈن کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

تاہم، جب خبررساں ویب سائٹ "ایکسيوس" کو انٹرویو کی آڈیو ریکارڈنگ موصول ہوئی اور اس نے اسے جمعے کے روز جاری کیا، تو ویب سائٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وائٹ ہاؤس، بائیڈن کی قیادت میں، صرف انٹرویو کا متن کیوں جاری کر رہا تھا، آڈیو کیوں نہیں۔"

سال 2023 میں8 اور 9 اکتوبر کو ہور کے ساتھ ہونے والے انٹرویو کے دوران طویل اور "پریشان کن" وقفوں کے دوران، بائیڈن کو یہ یاد رکھنے میں دشواری کا سامنا تھا کہ اُن کے بیٹا کب فوت ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ کب پہلی بار صدر منتخب ہوئے، وہ کب بطور نائب صدر وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوئے، اور اُن کے پاس خفیہ دستاویزات کیوں موجود تھیں ... یہ بات ایکسیوس ویب سائٹ نے بتائی۔

ویب سائٹ نے مزید کہا کہ "حال ہی میں جاری کی گئی وہ آڈیو ریکارڈنگز جن میں بائیڈن اس قسم کی معلومات یاد رکھنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں — کبھی رُک کر، کبھی الفاظ اَٹکا کر یا گنگناہٹ کے ساتھ ... یہ واضح کرتی ہیں کہ وائٹ ہاؤس نے گزشتہ برس یہ آڈیو جاری کرنے سے گریز کیوں کیا۔ اس وقت بائیڈن کی ذہنی صلاحیتوں پر سوالات بڑھ رہے تھے۔"

ایکسیوس کے مطابق ریکارڈنگ میں صدر کی آواز "مدھم، خشک، اور خاموشی کے طویل وقفوں" سے بھرپور ہے، جس میں وہ موزوں الفاظ یا درست تاریخیں تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ اکثر اوقات اُن کے وکلاء ہی یہ الفاظ فراہم کرتے، جو بظاہر اُن کی یادداشت کے محافظ کا کردار ادا کر رہے تھے۔

بائیڈن نے آڈیو ریکارڈنگ کو مخفی رکھنے کے لیے اپنے صدارتی اختیار کا استعمال کیا۔ ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن ارکان نے اُس وقت کے امریکی اٹارنی جنرل میریک گارلینڈ کو کانگریس کی حکم عدولی کی دھمکی دی، جب انھوں نے یہ آڈیو ان کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔

14 جون کو امریکی محکمہ انصاف نے اعلان کیا کہ گارلینڈ کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

یہ مناظر اس مناظرے سے کچھ ہی دن پہلے سامنے آئے، جس نے جولائی کے وسط میں جو بائیڈن کی دوبارہ انتخابی مہم کو ختم کر دیا.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں