ایمنسٹی: یمن کے پناہ گزین مرکز پر امریکی حملہ انسانی ہمدردی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے

امریکہ سے تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ باغیوں کے زیرِ قبضہ یمن میں تارکینِ وطن کے حراستی مرکز پر مہلک حملے میں بین الاقوامی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے۔

باغی حکام نے اس وقت کہا تھا کہ گذشتہ ماہ کے حملے میں صعدۃ میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے ایک مرکز میں زیرِ حراست 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس پر بین الاقوامی سطح پر خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی اور یہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف امریکی بمباری مہم کا حصہ تھا۔

ایمنسٹی کی سیکریٹری جنرل اگنیس کالمارڈ نے کہا، "امریکہ نے ایک معروف حراستی مرکز پر حملہ کیا جہاں حوثیوں نے مہاجرین کو حراست میں لے رکھا تھا۔"

حوثیوں نے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے تمام تارکینِ وطن افریقی ممالک سے تھے۔

کالمارڈ کے نزدیک "اس حملے میں عام شہریوں کی جان کا بڑا نقصان اس سلسلے میں سنگین خدشات پیدا کرتا ہے کہ آیا امریکہ نے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، امریکہ کو اس فضائی حملے کی فوری، آزاد اور شفاف تحقیقات کرنی چاہئیں۔

ایک امریکی دفاعی اہلکار نے حملے کے بعد اے ایف پی کو بتایا تھا کہ فوج نے "یمن میں امریکی حملوں سے متعلق شہری ہلاکتوں کے دعووں" کے بارے میں "جنگ میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ اور تحقیقات" شروع کر دیں۔

ایمنسٹی نے یمن میں تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کا حوالہ دیا اور متأثرین کا علاج کرنے والے دو ہسپتالوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے "ایتھوپیا کے دو درجن سے زائد تارکینِ وطن" کو شدید زخمی حالت میں دیکھا جن میں اعضاء کا کٹ جانا بھی شامل ہے۔

گواہان نے ایمنسٹی کو بتایا کہ دونوں ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں جگہ ختم ہو چکی تھی۔

مارچ کے وسط میں امریکہ نے حوثیوں کے خلاف ایک شدید اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فوجی حملے شروع کر دیئے تھے جن کا اختتام اس ماہ کے شروع میں امریکہ اور حوثیوں کے جنگ بندی معاہدے سے ہوا۔

ایمنسٹی نے کہا کہ اس نے یمن کے شمال میں واقع صعدۃ پر گذشتہ ماہ ہونے والے حملے کے مقام سے سیٹلائٹ تصاویر اور فوٹیج کا تجزیہ کیا تھا۔

آزادانہ تحقیقات پر حوثیوں کی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے گروپ نے کہا کہ وہ نشانہ بنائے گئے جیل کے احاطے میں "ایک جائز فوجی ہدف کی حتمی شناخت کرنے سے قاصر تھا"۔

ایمنسٹی نے کہا، "کوئی بھی حملہ جو ایک طرف شہریوں اور شہری اشیاء اور دوسری طرف جائز فوجی اہداف کے درمیان فرق کرنے میں ناکام ہو حتیٰ کہ ایک ہی احاطے کے اندر، وہ ایک اندھا دھند حملہ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں