پاکستان پر پابندیاں لگوانے کے لیے بھارتی 'سفارتی جنگ' کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان کے مختلف شہروں میں کی گئی بمباری اور حملوں کے بعد پاکستان کے فوجی جواب کے نتیجے میں ایک نئی سفارتی مہم کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ پاکستان کو عالمی دباؤ کا نشانہ بنایا جا سکے۔

اس سلسلے میں ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت پاکستان پر پابندیاں لگوانے کے لیے سفارتی کوششوں کا آغاز کر رہا ہے۔

پابندیوں کے ایک میدان کے طور پر بھارت پاکستان کے خلاف 'ایف اے ٹی ایف' کو ایک بار ہھر متحرک کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ پاکستان کا نام دوبارہ گرے لسٹ میں ڈلوا سکے۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے یہ 'سفارتی انیشی ایٹیو' فوری طور پر لینا اس لیے ضروری سمجھا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ 6 اور 7 مئی کے شہری علاقوں میں بھارتی حملوں کے بعد پاکستان بھی سفارتی میدان میں متحرک ہو کر بھارت کے خلاف پابندیاں لگوانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ نیز صوبہ بلوچستان میں بھارت کی سپانسرڈ دہشت گرد تنظیموں کی حالیہ کارروائیاں بھی پاکستان کے سفارتی مشنوں کے لیے بھارت کے خلاف پابندیاں لگوانے کی ایک کوشش کا باعث بن سکتی ہے۔

یاد رہے بھارت کی طرف سے 6 اور 7 مئی کو شروع کی گئی جنگی جارحیت حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کے خلاف سب سے بڑی جنگی جارحیت تھی۔ جس می بعض مبینہ اطلاعات کے مطابق اسے اسرائیل کی بھرپور مدد حاصل تھی۔

پاکستان نے 21 مئی کو خضدار میں سکول بس پر کیے گئے دہشت گردانہ حملے کا الزام بھی بھارت اور اس کے پروردہ دہشت گردوں پر لگایا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پاکستان سکول کے بچوں کی بس پر حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے خون کا بدلہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

جبکہ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ زیر بحث موضوعات کو تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر خود پاکستان کے خلاف سفارتی محاذ کو بھی پہلے سے زیادہ گرم کر دے۔

تاہم پاکستان کی وزارت خزانہ نے اس بارے میں فوری طور پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا اور نہ کوئی تبصرہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں