اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق حوثیوں کی جانب سے یمن سے داغا گیا ایک میزائل فضا میں روک لیا گیا۔ فوج کے ترجمان اویخای ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر آج جمعے کی صبح لکھا کہ "یمن سے ایک میزائل داغا گیا تھا، جسے روک لیا گیا، اور اس کی وجہ سے ملک کے کئی علاقوں میں سائرن بجنے لگے۔"
دو میزائلوں کا روکا جانا
یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آئے ایک اور حملے کے بعد سامنے آیا، جب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ یمن سے داغا گیا ایک حوثی میزائل روکا گیا جس کے نتیجے میں خطرے کے سائرن بجے۔
#عاجل اعتراض صاروخ أطلق من اليمن حيث سبب في تفعيل انذارات في عدة مناطق في البلاد.
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) May 23, 2025
ان حالات کے پیش نظر تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب، حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے بن گوریون ہوائی اڈے کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا۔
بعد ازاں جمعرات ہی کو اسرائیلی فوج نے ایک اور بیان میں کہا کہ یمن سے داغا گیا ایک اور میزائل روکا گیا ہے۔
بیان کے مطابق "اسرائیل کے کئی علاقوں میں سائرن بجنے کے بعد، یمن سے داغا گیا ایک میزائل روک لیا گیا۔"
امریکی حملوں کا رک جانا
یہ تمام پیش رفت 6 مئی کے بعد سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بم باری اور حملے روک دیے گئے ہیں، کیوں کہ "حوثیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں"۔
تاہم اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اس امریکی اعلان کا فریق نہیں ہے، اور وہ حوثی اہداف پر حملے جاری رکھے گا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا کہ تل ابیب کو امریکی حملے روکنے کے فیصلے کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے خبردار کیا کہ وہ "کسی بھی حوثی حملے کا سخت جواب دیں گے"۔
ادھر حوثیوں کے سیاسی دفتر کے رکن عبد المالک العجری نے اعلان کیا کہ "امریکیوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے میں اسرائیل شامل نہیں ہے"۔
غزہ کی جنگ کے آغاز سے اب تک
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیلی فوجی اڈوں اور بستیوں پر حملے کے بعد، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ چھڑ گئی تھی۔ اس کے بعد سے حوثیوں نے اسرائیل پر درجنوں میزائل حملے کیے، اور بحیرہ احمر میں ان جہازوں پر بھی حملے کیے جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اسرائیلی ہیں یا اسرائیل جا رہے ہیں۔
مارچ 2025 سے امریکہ نے یمن میں حوثی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے، جب کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے بھی صنعا، خاص طور پر اس کے ہوائی اڈے اور الحدیدہ شہر پر درجنوں فضائی حملے کیے۔
بعد ازاں امریکی صدر نے سلطنت عمان کی ثالثی سے ایک معاہدے کے تحت حملے روکنے کا اعلان کیا۔