عراق میں اسرائیلی محققہ کی ممکنہ رہائی کےبدلے پاسداران انقلاب کےرکن کی رہائی پربات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عراقی سکیورٹی ذرائع کے مطابق بغداد میں 2023ء میں اغوا ہونے والی اسرائیلی-روسی محققہ الیزابیتھ تسورکوف کی رہائی کے بدلے ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک رکن محمد رضا نوری کی رہائی پر مذاکرات جاری ہیں۔ نوری کو ایک امریکی شہری کے قتل کے الزام میں عراق میں گرفتار کیا گیا تھا۔

عراق کے ایران نواز گروہوں سے قریبی سمجھی جانے والی "الرابعہ" ٹی وی نیٹ ورک نے بتایا ہے کہ اس ممکنہ معاہدے کے تحت ایک اور ایرانی قیدی اور چھ دیگر زیرِ حراست افراد کو بھی رہا کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تبادلہ ایک ہفتے سے دس دن کے اندر عمل میں آ سکتا ہے۔

امریکہ کلیدی فریق، منظوری ابھی باقی

عراقی سکیورٹی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس معاہدے کا حتمی نفاذ امریکہ کی منظوری سے مشروط ہے، جو تاحال اس معاملے پر اپنا باضابطہ موقف ظاہر نہیں کر رہا۔ عراق، ایران اور اسرائیل کی حکومتوں نے بھی اب تک اس سلسلے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

الیزابیتھ تسورکوف جو امریکی پرنسٹن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں دسمبر 2022ء میں مشرقِ وسطیٰ پر تحقیق کے لیے بغداد پہنچی تھیں۔ وہ مارچ 2023 کے آخر میں لاپتا ہو گئیں اور ان کے اغوا کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔

اسرائیل نے ان کے اغوا کا الزام عراقی عسکری گروہ "کتائب حزب اللہ" پر عائد کیا ہے، تاہم گروہ نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ تسورکوف کی حراست ممکنہ طور پر ایران یا اس کے حامی گروہوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے۔

پاسداران انقلاب کا رکن امریکی قتل میں ملوث

محمد رضا نوری المعروف "ابو عباس" ایران نواز ذرائع میں "محافظ حرم" کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اپریل 2023ء میں انہیں چار دیگر افراد کے ساتھ اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ امریکی شہری اسٹیفن ایڈورڈ ٹرول کے قتل میں ملوث پائے گئے۔

ٹرول جن کی عمر 45 برس تھی بغداد میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم تھے اور 2022 کے موسمِ خزاں میں اپنی گاڑی میں فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے۔ کئی ماہ کی تفتیش کے بعد اگست 2023ء میں عراقی عدالت نے نوری اور چار دیگر افراد کو عمر قید کی سزا سنائی۔

امریکی حکام محمد رضا نوری پر دہشت گردی اور امریکی شہری کے قتل جیسے سنگین الزامات عائد کرتے ہیں۔

ایران کی رہائی کی کوششیں اور اسرائیل کا الزام

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نوری پر لگنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں "اسرائیل سے وابستہ عناصر کی سازش" قرار دیا۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی عدلیہ اور وزارتِ خارجہ گزشتہ دو برسوں سے نوری کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں، تاہم اب تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

عرب روزنامہ "الشرق الاوسط" کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تسورکوف کا اغوا اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ہاتھوں ایران سے اغوا کیے گئے یوسف شہبازی عباس علی لو کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ عباس علی لو کو اسرائیلی شہریوں پر قبرص میں حملے کی سازش میں ملوث ہونے پر ایران سے اٹھایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں