ریاض میں عالمی آبی چارٹر پر دستخط
سعودی عرب نے عالمی آبی تنظیم کے پانچ سالہ بجٹ کا وعدہ کیا ہے
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سرپرستی میں عالمی آبی تنظیم کے بانی ممالک نے عالمی آبی چارٹر پر دستخط کیے ہیں جس نے ریاض سے اپنے کام کا آغاز وسیع مقامی اور بین الاقوامی شرکت کے ساتھ کیا۔
سعودی عرب نے عالمی آبی ادارہ قائم کیا جس کا اعلان سعودی ولی عہد نے ستمبر 2023 میں کیا تھا۔ اس ادارے کا صدر دفتر ریاض میں ہے۔ یہ تنظیم تکنیکی مہارت، اختراع، تحقیق اور ترقی کے تبادلے اور فروغ کے ذریعے پانی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ممالک اور تنظیموں کی کوششوں کو فروغ دیتی ہے۔ یہ ترجیحی منصوبوں کے قیام اور ان کی مالی اعانت کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے تاکہ آبی وسائل کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے اور سب کے لیے پانی تک رسائی کو بڑھایا جا سکے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سرپرستی میں منعقدہ تنظیم کے چارٹر پر دستخط کی تقریب کے دوران سعودی عرب نے عالمی آبی تنظیم کے پانچ سالہ آپریشنل بجٹ اور دارالحکومت ریاض میں تنظیم کے صدر دفتر کی میزبانی کے لیے اپنی مکمل وابستگی کا بھی اعلان کیا۔
اسی تناظر میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے تقریب میں اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ تنظیم کا قیام بین الاقوامی کوششوں کو یکجا کرتا ہے۔ یہ تنظیم ممالک کے درمیان بات چیت کو بڑھانے کے لیے ایک کثیر الجہتی پلیٹ فارم تشکیل دیتی اور پانی کے شعبے میں اختراعی حل کو ترقی دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مملکت سعودی عرب عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی مسائل میں مؤثر طریقے سے تعاون کرنے کے لیے ایک مربوط نقطہ نظر اپناتی ہے کیونکہ وہ پانی کو انسانی، ترقیاتی اور سلامتی کی ترجیح کے طور پر دیکھتی ہے۔ شہزادہ فیصل نے یہ بھی کہا کہ مملکت کے ویژن 2030 نے آبی وسائل کے انتظام کو ایک قومی ترجیح بنا دیا ہے۔ ریاض میں تنظیم کے ہیڈکوارٹر کی میزبانی عالمی ماحولیاتی اور ترقیاتی امور کے لیے مملکت کی عملی اور موثر وابستگی کی عکاسی کر رہی ہے۔
9 ارب لوگ
تنظیم کے اہداف پانی کے چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔ پانی سے متعلقہ منصوبے سعودی عرب کے قومی ایجنڈے پر ترجیحات میں شامل ہیں۔ پانی کے حل میں مہارت حاصل کرنا ان توقعات کے پیش نظر کہ 2050 تک عالمی پانی کی طلب دوگنی ہو جائے گی کیونکہ دنیا کی آبادی ایک اندازے کے مطابق 9.8 بلین افراد تک پہنچ جائے گی انتہائی اہم ہے۔
200 منصوبوں کی مدد کے لیے 6 بلین ڈالر
مزید برآں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض میں منعقد ون واٹر سمٹ میں کہا کہ سعودی عرب نے دنیا بھر میں پانی سے متعلق 200 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6 بلین ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبی وسائل کی پائیداری کے لیے مشترکہ منصوبے تیار کیے جانے چاہییں۔
60 سے زیادہ ممالک
سعودی ولی عہد نے وضاحت کی کہ اس نقطہ نظر سے سعودی عرب نے اپنی 2020 کی صدارت کے دوران G20 ایکشن پلان میں پہلی بار پانی کے مسائل کو شامل کرنے کے لیے کام کیا۔ سعودی عرب نے دنیا بھر کے 60 سے زیادہ ترقی پذیر ممالک میں پانی کے شعبے میں 200 سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کے لیے 6 بلین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ بھی فراہم کی۔ ان منصوبوں کو ورلڈ واٹر کونسل کے ساتھ تعاون کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔
رکن ممالک کے ساتھ تعاون میں سعودی عرب پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں تعاون کرنے کا منتظر ہے جس کا مقصد پانی کی دستیابی کو یقینی بنانا اور سب کے لیے محفوظ اور پائیدار پانی کے مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے ٹھوس کوششوں کے ذریعے ایک جامع اثر حاصل کرنا ہے۔ عالمی آبی تنظیم کے قیام کے لیے سعودی عرب کا اقدام دنیا بھر میں پانی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ملک کے کردار اور ماحولیاتی پائیداری کے مسائل کے لیے اس کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔
-
حج 2025: سعودی وزارت مذہبی امور کا عازمین حج کے لیے 24/7 ٹول فری ہیلپ لائن کا آغاز
سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے عازمین حج کے لیے 24/7 ٹول فری ہیلپ لائن کا آغاز ...
حج -
سعودی وزارت داخلہ کا حج کے قواعد و ضوابط کی پاسداری پر زور
سعودی وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حج کے قواعد و ضوابط کی پابندی حجاج ...
مشرق وسطی -
سعودی مسافر بردار فلائی آ ڈیل شام کے لیے پروازیں شروع کرے گا: سربراہ
سعودی باکفایت مسافر بردار ایئر لائن فلائی آ ڈیل کے سربراہ سٹیون گرین وے نے بدھ کے ...
مشرق وسطی