پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ایسے بہت سے تنازعات ہیں جو کبھی بھی قابو سے باہر ہو سکتے ہیں، جنوبی ایشیا میں غیر حل شدہ تنازع کشمیر موجود ہے۔
سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد دنیا کے رکھوالوں نے خود ہی ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت، انسانی حقوق، عالمی قانون اور انصاف کی قدروں کو پامال کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طاقت اور مفاد، اخلاقیات اور اصولوں سے بالاتر ہو گئے ہیں، ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو کشیدگی کے خطرات میں کسی بھی ابہام کو ختم کرسکیں۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ نظریاتی یا علاقائی اختلافات کو دبانے سے انہیں حل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدم اعتماد کی فضا میں کوئی میکنزم کام نہیں کرتا، پائیدار کرائسس مینجمینٹ کے لیے باہمی برداشت، ریڈ لائن کی پاسداری اور مساوات کی ضرورت ہوتی ہے۔
🇵🇰 Pakistan Reaffirms Peaceful Intent at Shangri-La Dialogue 2025
— Global Defense Insight (@Defense_Talks) May 31, 2025
Speaking at the Shangri-La Dialogue 2025 in Singapore today, Pakistan’s Chairman Joint Chiefs of Staff Committee, General Sahir Shamshad Mirza, reaffirmed that Pakistan has consistently pursued diplomatic… pic.twitter.com/hVs8kGHm2a
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا کہنا ہے کہ ’جنوبی ایشیا میں تنازعات اس لیے بھی حل نہیں ہو پاتے کیوں کہ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر موجود کثیرجہتی ڈھانچے نہ صرف کمزور ہو چکے ہیں بلکہ مؤثر بھی نہیں رہے۔
’میں اختصار سے یہ کہنا چاہوں گا کہ حالیہ انڈیا، پاکستان کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ خطے کے بحران سے نمٹنے کے نظام بعض ممالک کے جنگجویانہ رویے کے سامنے بے بس ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ بحران کے انتظام کے سلسلے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جو واحد فعال دوطرفہ رابطہ ہے، وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کی ہاٹ لائن ہے۔
’حالیہ تناؤ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جیسے ہی کوئی بحران جنم لے، اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے رابطے کے کھلے ذرائع کس قدر ضروری ہیں۔‘
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ جب تک بنیادی اسٹیک ہولڈرز کمزور سمجھے جائیں، کوئی فریم ورک کامیاب نہیں ہو سکتا، استحکام کا حصول شراکت داری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایڈہاک رسپانسز ناکافی ہیں، ہمیں ادارہ جاتی پروٹوکول، ہاٹ لائنز کی ضرورت ہے۔ کشیدگی میں کمی کے طے شدہ طریقہ کار اور مشترکا کرائسس مینجمنٹ مشقوں کی ضرورت ہے۔