ایک باوقار یونیورسٹی کا غزہ میں جنگ کے باعث اسرائیل سے نارمل تعلقات پر نظر ثانی کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

آئر لینڈ کے ممتاز اور باوقار تعلیمی ادارے ٹرینٹی کالج ڈبلن نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تمام نارمل دنوں کے تعلقات کو ختم کر رہا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خاتمے کا یہ فیصلہ اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے خلاف بطور احتجاج کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں یونیورسٹی بورڈ نے سٹوڈنٹس کو ای میل کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ ٹاسک فورس کی سفارشات ماننے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان سفارشات میں اسرائیل کے ساتھ ادارے کے تعلقات کے خاتمے کے لیے کہا گیا ہے۔

اس اعلان کے تحت اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ بھی تعلقات کا خاتمہ ہوگا اور اسرائیلی یونیورسٹیوں کے ساتھ بھی۔ خصوصا ان یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے ساتھ تعلقات ختم کیے جائیں گے جن کے مرکزی دفاتر اسرائیل میں ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' کے مطابق ٹاسک فورس کی سفارشات کا اثر اس وقت تک رہے گا جب تک بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور انسانی بنیادوں پر بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزیاں اسرائیل جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈبلن میں یہ ٹاسک فورس اس وقت قائم کی گئی تھی جب پچھلے سال یونیورسٹی کے کیمپس کو پانچ دن کے لیے بلاک کر دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی کے بورڈ سے ان سفارشات پر عمل کے لیے کہا گیا ہے۔ تاکہ اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج کیا جا سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل یا اس کی کمپنیوں کے ساتھ کوئی نیا تجارتی معاہدہ بھی نہیں کیا جاسکے گا۔

آئرش یونیورسٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی کسی یونیورسٹی کے ساتھ بھی معاہدہ نہیں کرے گی۔ یاد رہے ٹرینٹی کالج کے اسرائیل کی دو یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدے ہیں۔ ان میں سے ایک معاہدہ جولائی 2025 میں اور دوسرا معاہدہ 2026 میں ختم ہونے جا رہا ہے ۔

یونیورسٹی کے بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے کسی ادارے کے ساتھ تحقیق کی درخواست کی منظوری نہیں دے گا۔ نہ ہی کسی ایسے معاہدے کا حصہ بنے گا جس میں اسرائیل شامل ہوگا۔ بلکہ یونیورسٹی اپنے ہم خیال اداروں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدات کرنے کی کوشش کرے گی۔ تاکہ یورپی یونین کی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکے۔

آئر لینڈ نے بعض دیگر یورپی ملکوں کے ساتھ مئی 2024 میں فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے دسمبر میں حکم دیا تھا کہ ڈبلن سے اپنا سفیر واپس بلایا جائے ۔ کیونکہ آئرلینڈ مکمل طور اسرائیل مخالف پالیسیوں کا حامل ملک بن چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں