ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے انٹیلی جنس سروسز کے کام میں مدد لی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار ٹیکنالوجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔
گبارڈ نے کہا 'مصنوعی ذہانت کے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کے ذریعے پیسے بچائے جا سکتے ہیں۔ نیز انٹیلی جنس افسران کی توجہ معلومات اکٹھی کرنے اور اس کے تجزیے کے لیے مرکوز کی جا سکتی ہے۔'
انہوں نے مزید کہا مصنوعی ذہانت حساس دستاویزات کو سکین کر سکتا ہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر سابق صدر جان ایف کینیڈی اور ان کے بھائی سین رابرٹ ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق دستاویزات تیار کی ہیں۔ یہ تحقیقاتی دستاویز کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔
ماہرین کا خیال تھا کہ اس کام میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ تاہم مصنوعی ذہانت کی مدد سے دستاویزات کو جلد تیار کر لیا گیا۔
واشنگٹن میں ہونے والی 'ایمازون ویب سروسز سمٹ' میں گبارڈ نے کہا 'مصنوعی ذہانت' سے کاموں کو تیزی سے مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہی کام انسان کرتے تو ایک ایک صفحہ پر کافی وقت لگتا۔
مصنوعی ذہانت کی کمیونٹی نجی شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر انحصار کرتی ہے۔ گبارڈ نے کہا کہ وفاق کے وسائل کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ تعلق بڑھانے پر استعمال کرنے کی کوشش جاری ہے۔
گبارڈ نے مزید کہا نجی شعبے میں انٹیلی جنس ماہرین کے وقت و توانائی کے درست استعمال کے لیے کوششیں جاری ہیں۔