اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے ' آئی اے ای اے ' نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں کے دوران ایران کی 'نتنز جوہری سائٹ' کے زیر زمین حصے پر بھی براہ راست اثرات پہنچے ہیں۔
اس سے ایک روز قبل بھی 'انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی' نےکہا تھا کہ ابتدائی طور پر اس کے پاس ایسا اشارہ یا علامت نہیں ہے، جس سے اندازہ کیا جائے کہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ یورینیم افزودگی پلانٹ کے صرف اوپر والے حصے کو نقصان پہنچا ہے۔
مگر جمعہ کے روز سے جاری اسرائیلی حملوں کی بنیاد پرمکمل کیے گئے جائزے کے حتمی بات کہی گئی ہے۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے بین الاقوامی ادارے نے سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی ' ہائی ریزولیشن ' تصاویر سے بھی مدد لی ہے۔ تاہم اس بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
اس سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کے دو پلانٹس سے 70 فیصد سنٹری فیوجز چلا کر یورینیم افزودہ کرتا ہے۔ ان میں 'نتنز' میں ایک پلانٹ ہے۔ جہاں زیر زمین یورینیم افزودگی کی مشینیں کام کرتی ہیں۔
تاہم تہران نے ہمیشہ ہی جوہری ہتھیار بنانے کے الزام کا انکار کیا ہے۔ البتہ بین الاقوامی ادارے کی رپورٹس کے مطابق ایران یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے، اس کی یہ کوشش 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت طے شدہ 3.67 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ ہے۔
واضح رہے تین سے پانچ فیصد تک افزودہ یورینیم جوہری پاور پلانٹس کو بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جوہری بم بنانے کے لیے افزودگی کو 90 فیصد تک لے جانا ہوگا۔
'آئی اے ای اے' کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے ایران میں جوہری معاملات کے حوالے سے پیدا شدہ نئی صورت حال میں وہ فوری طور پر ایران جانے کو تیار ہیں۔
-
اسرائیل کا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ، ریڈیائی خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں: قطر
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام میں چند ماہ کا رخنہ ڈال دیا ہے : رپورٹ
سی این این کے مطابق، حملوں سے پہلے کیے گئے اندازوں میں کہا گیا تھا کہ ایران جوہری ...
بين الاقوامى -
اسرائیل : شہریوں کے لیے انتباہی اعلان واپس لے لیا، ایرانی میزائل حملہ روک لینے کی اطلاع
اسرائیلی فوج جو حالیہ چند دنوں میں اسرائیلی شہریوں کو ایرانی میزائل حملون کی ...
مشرق وسطی