ایران جنگ دو ہفتوں میں مکمل ہونے کی توقع، مگر میزائل حملے مکمل رکنا مشکل:اسرائیلی میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی اخبار "یسرائیل ہیوم" نے انکشاف کیا ہے کہ فوجی قیادت کے اندازوں کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ آئندہ 5 سے 10 دن یا زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں میں مکمل ہو سکتی ہے، تاہم اس دوران میزائل حملوں کا مکمل خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا، چاہے میزائل داغنے کے کئی مقامات تباہ بھی کر دیے گئے ہوں۔

فوجی ذرائع کے مطابق میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کی کامیابی کی شرح 80 سے 90 فیصد کے درمیان ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اس قلیل مدت میں اپنی جنگی حکمت عملی کو مکمل کرنے کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کو لاحق وجودی خطرے کا خاتمہ ہے۔

اسرائیلی فوج کے سینئر افسران نے اخبار کو بتایا کہ موجودہ آپریشن توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک غیر معمولی اسٹریٹجک تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

اخبار نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اگرچہ ایران میں متعدد راکٹ لانچنگ پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم ایران کے پاس اب بھی ایسی صلاحیت موجود ہے جو اسرائیل پر بھاری راکٹ حملے جاری رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی داخلی محاذ کو جنگ کے خاتمے تک سنگین حملوں کا سامنا رہے گا۔

فوجی ذرائع نے واضح کیا کہ فضائی دفاعی نظام تمام راکٹوں کو مکمل طور پر روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اسرائیلی فوجی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق بھی راکٹوں کو مار گرانے کی کامیابی کا تناسب 80 سے 90 فیصد کے درمیان ہے۔

اخبار کے مطابق موجودہ عسکری تخمینے بتاتے ہیں کہ تقریباً 5 سے 10 فیصد راکٹ اسرائیلی دفاعی نظام سے بچ نکلتے ہیں، چاہے جدید ترین کثیر سطحی نظام اور "آئرن ڈوم" جیسے دفاعی سسٹم استعمال کیے جا رہے ہوں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو کہ ایک جانب جانی نقصان ہے، مگر دوسری طرف جنگ سے قبل وزارتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹوں میں سینکڑوں ہلاکتوں کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ ان کے مقابلے میں یہ ہلاکتیں کم تصور کی جا رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں