ترکیہ: جنگلات میں لگی آگ بے قابو، چھ مقامات پر شعلے تاحال بھڑک رہے ہیں، ہزاروں افرادبے گھر
اب تک 342 مقامات پر آگ بھڑکی، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل
ترکیہ ایک بار پھر گرمیوں کے آغاز پر جنگلات کی آگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں مغربی اور جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے اور تیز ہواؤں کے باعث آگ نے وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مسلسل دوسرے روز بھی ان شعلوں پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ترکیہ کی مغربی ریاست ازمیر میں پھیلنے والی آگ کے مناظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئے، جن میں لوگوں کو خوف کے عالم میں گھروں سے نکلتے، اور دھوئیں کے بادلوں میں لپٹے علاقوں سے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں ٹریکٹروں پر نصب پانی کی ٹینکیوں اور پانی سے لیس ہیلی کاپٹروں کے ذریعے آگ بجھانے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم تیز ہوائیں ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق ازمیر اور مانيسا کی جنگلاتی اور صنعتی آبادیوں میں متعدد گھروں کو آگ نے نقصان پہنچایا ہے۔ ترک وزیر زراعت و جنگلات ابراہیم یوماقلی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ "صورتحال گذشتہ روز کے مقابلے میں بہتر ہے، تاہم چھ مقامات پر آگ اب بھی بھڑک رہی ہے، جن میں ہاتای اور انطاکیہ (جنوبی ترکیہ) زیادہ سنگین نوعیت کے مقامات ہیں"۔
یوماقلی کے مطابق جمعے سے اب تک ملک بھر میں 342 مختلف مقامات پر جنگلات میں آگ بھڑک چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر متوقع اور شدید ہوائیں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ، آئندہ دنوں میں صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
ترک وزیر نے کہا کہ "آنے والے دنوں میں بحیرہ مرمرہ، بحیرہ ایجہ اور بحیرہ روم کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کی توقع ہے، اس لیے عوام کو خبردار کیا جاتا ہے کہ کھلی جگہوں پر آگ ہرگز نہ جلائیں اور نہ ہی گھاس کے علاقوں میں سگریٹ پھینکیں"۔
ترکیہ کی آفات و ہنگامی انتظامیہ (آفاد) نے "ایکس" پر جاری بیان میں بتایا کہ اب تک 41 قصبوں سے 50 ہزار سے زائد افراد کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق آگ اور دھوئیں سے 79 افراد متاثر ہوئے ہیں، تاہم ان میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ترکیہ میں گرمیوں کے موسم میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ گرمیوں کا موسم اب زیادہ خشک اور شدید ہو چکا ہے۔