ایران سے تارکینِ وطن کی ڈیڈلائن سے پہلے واپسی: افغان سرحد پر 'ایمرجنسی'

اقوامِ متحدہ اور امدادی گروپوں کا مزید مالی معاونت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوامِ متحدہ نے کہا کہ اتوار کو واپسی کی آخری تاریخ سے چند دنوں پہلے ایران سے دسیوں ہزار افغان سرحد پر آ گئے جس سے سرحدی مقامات پر "ہنگامی" صورتِ حال پیدا ہو گئی۔

مئی کے آخر میں ایران نے کہا تھا کہ غیر دستاویزی افغان چھے جولائی تک لازماً ملک چھوڑ دیں جس سے تہران کے مطابق ملک میں رہنے والے 60 لاکھ افغانوں میں سے ممکنہ طور پر 40 لاکھ افراد متأثر ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر نے جمعہ کو کہا کہ جون کے وسط سے سرحد عبور کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یکم جولائی کو مغربی صوبہ ہرات میں اسلام قلعہ سے 43,000 سے زیادہ لوگوں نے سرحد عبور کی۔

اقوامِ متحدہ کے مہاجر ایجنسی آئی او ایم نے کہا کہ جون میں 250,000 سے زیادہ افغان ایران سے وطن واپس آئے۔

یونیسف کے ملکی نمائندہ تاج الدین اوئے والے نے کہا، یہ ملک میں ایک "ہنگامی" صورتِ حال ہے جسے پہلے ہی "دائمی واپسی کے بحران" کا سامنا ہے اور اس سال روایتی میزبانوں ایران اور پاکستان سے 1.4 ملین افغان واپس آئے ہیں۔

ایران سے افغانوں کی بیدخلی

انہوں نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا، "تشویش کی بات یہ ہے کہ ان تمام واپس آنے والوں میں سے 25 فیصد بچے ہیں کیونکہ آبادی کا تناسب انفرادی مردوں سے پورے خاندانوں پر منتقل ہو گیا ہے جو کم سامان اور رقم کے ساتھ سرحد عبور کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، اسلام قلعہ بڑی تعداد کو سمو سکتا ہے لیکن خدمات کے لحاظ سے ناکافی طور پر لیس تھا۔ "جب آپ کو 20,000 سے زیادہ لوگوں (ایک دن) کو سنبھالنا پڑے تو یہ ہماری منصوبہ بندی کی صورتِ حال سے بالکل باہر ہے۔"

ایجنسی یومیہ سات سے دس ہزار لوگوں کے لیے پانی اور صحت و صفائی کے نظام کو وسعت دینے کے لیے ہنگامی کارروائیوں میں مصروف ہے اور اس کے ساتھ ہی ویکسینیشن، غذائیت اور بچوں کے لیے موزوں جگہیں بھی ہونا ضروری ہیں۔

سرحد عبور کرنے والے کئی لوگوں نے حکام کے دباؤ یا گرفتاری اور ملک بدری کی اطلاع دی۔

ایران میں افغانوں کو درپیش دباؤ کے بارے میں 38 سالہ عارف عطائی نے کہا، "بعض لوگ اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ خود گھر سے باہر نہیں نکلتے۔ وہ اپنے چھوٹے بچوں کو صرف ایک روٹی کے لیے باہر بھیج دیتے ہیں اور وہ بچے بھی بعض اوقات گرفتار ہو جاتے ہیں۔"

وہ ہفتے کے روز اپنے خاندان کو دوبارہ آباد کرنے میں مدد کے لیے آئی او ایم کے زیرِ انتظام استقبالیہ مرکز میں انتظار کر رہے تھے جب انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "اگر مجھے اپنے ہی ملک میں بھیک مانگنا پڑے تب بھی یہ ایسی جگہ پر رہنے سے بہتر ہے جہاں ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔"

غیر ملکی امداد میں وسیع پیمانے پر کٹوتیوں کے باعث بحران سے نمٹنے کا عمل متأثر ہوا ہے اور اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی غیر سرکاری گروپوں اور طالبان حکام نے واپس آنے والوں کی مدد کے لیے مزید مالی اعانت کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مہاجرین کی یہ آمد ملک کو غیر مستحکم کر سکتی ہے جو پہلے ہی غربت، بے روزگاری اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل سے دوچار ہے اور ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغانوں کو زبردستی واپس نہ بھیجیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں