شام کی دروز اقلیت کے سرکردہ رہنما حکمت الہجری نے جھڑپوں سے متاثرہ السویداء شہر میں جنگ بندی کے حکومتی اعلان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ "ہمارے لیے یہ ایک قومی، انسانی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو ان گروہوں سے مکمل طور پر آزاد کرائیں۔ ہم غیر مشروط طور پر اپنا دفاع جاری رکھیں گے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ان باقی ماندہ مسلح عناصر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور خود کو ہمارے نوجوانوں کے حوالے کریں۔ ہم اپنے اصولوں اور اقدار کے مطابق ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں گے۔ جو ہتھیار ڈالے گا، وہ ہماری امان میں ہو گا، اسے ذلیل کیا جائے گا نہ نقصان پہنچایا جائے گا"۔
حکمت الہجری نے مزید واضح کیا کہ "ہم مقامی اور عالمی رائے عامہ کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ان مسلح گروہوں کے ساتھ جو خود کو حکومت کہلاتے ہیں ہمارا کوئی معاہدہ، مذاکرات یا سمجھوتا نہیں ہوا۔ جو کوئی بھی اس اجتماعی موقف سے ہٹ کر ان گروہوں سے بات کرے گا یا یکطرفہ معاہدہ کرے گا، وہ قانونی اور سماجی طور پر جواب دہ ہو گا"۔
كلمة للزعيم الدرزي السوري يوسف جربوع يعلن فيها عن التوصل لاتفاق ينهي الاشتباكات #سوريا #قناة_العربية pic.twitter.com/0m89Afb8bC
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) July 16, 2025
شامی حکومت کا نیا جنگ بندی اعلان
شامی وزارت داخلہ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ السویداء میں ایک نیا جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل ہی اسی نوعیت کا دعویٰ کیا گیا تھا، مگر زمینی طور پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔
شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق وزارت داخلہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ "السویداء میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے، سکیورٹی چوکیاں قائم کی جائیں گی اور شہر کو مکمل طور پر ریاستی نظام میں ضم کیا جائے گا"۔
اسی سلسلے میں درزی مذہبی رہنما شیخ یوسف جربوع نے بھی بدھ کے روز اعلان کیا کہ السویداء کے حوالے سے حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت تمام عسکری کارروائیاں روکی جائیں گی اور غیر ریاستی اسلحہ ختم کیا جائے گا۔
شیخ جربوع نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ "السویداء میں تمام فوجی کارروائیاں بند کرنے اور فوج کی واپسی کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے"۔