لبنان میں جنگ بندی معاہدہ ناکام رہا، حل تلاش کر رہے ہیں : امریکی ایلچی
العربیہ کے ذرائع کے مطابق امریکی تجویز کے جواب میں لبنان نے اسرائیلی خلاف ورزیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے ... اور جس کے بدلے شمالی لیطانی سے اسلحہ واپس لینے کی پیشکش کی گئی ہے
امریکی ایلچی برائے شام و لبنان ٹوم براک نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں ناکامی کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم باک کے مطابق وہ "فی الحال اسرائیل کو کسی اقدام پر مجبور نہیں کر سکتے"۔
براک پیر کو بیروت کے قصر بعبدا پہنچے، جہاں انھوں نے لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں براک نے کہا "ہم لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی ناکامی کی وجوہات پر کام کر رہے ہیں"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "لبنان علاقائی استحکام کا حصہ ہے"۔
براک نے کہا کہ "واشنگٹن حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے اور اس سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا"۔ امریکی ایلچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ "ہم لبنانیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ امن قائم ہو، لیکن اس کا حل لبنانی حکومت کے ہاتھ میں ہے"۔
لبنانی ایوانِ صدر نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ "صدر عون اور امریکی ایلچی ٹوم براک کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں لبنان میں امریکی سفیر لیزا جانسن بھی موجود تھیں"۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ "صدر عون نے امریکی ایلچی کو لبنانی ریاست کی جانب سے ایک جامع یادداشت کا مسودہ پیش کیا، جس میں 27 نومبر 2024 کے اعلان، حکومت کے وزارتی بیان، اور صدر کے حلف برداری کے خطاب میں لبنان کی دی گئی یقین دہانیوں کے نفاذ کا خاکہ شامل ہے".
العربیہ ذرائع کے مطابق لبنانی رد عمل میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے بدلے شمالی لیطانی کے علاقے سے اسلحہ ہٹانے کا مطالبہ شامل ہے۔
صدر عون سے ملاقات کے بعد براک نے وزیرِاعظم نواف سلام سے ملاقات کی، اور پھر وہ سابق سوشلسٹ رہنما ولید جنبلاط اور بعد ازاں فوج کے سربراہ روڈولف ہیکل سے ملاقات کریں گے۔
لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، براک مزید دو دن بیروت میں قیام کریں گے اور اس دوران کئی ارکانِ پارلیمان، وزراء، مارونی کلیسا کے سربراہ اور دیگر مذہبی و سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔
معاہدے میں رکاوٹ
ادھر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے امریکی ایلچی کے دورے سے قبل ہی اپنے مخصوص انداز میں ٹیلی ویژن پر براہِ راست بات چیت کرتے ہوئے اپنے سیاسی موقف کو بلند کیا۔ عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق، ان کا مقصد معاہدے کو سبوتاژ کرنا نہیں بلکہ ایسی ضمانتیں حاصل کرنا ہے جن سے ان کے حامی عوام کو پارٹی کے سیاسی مستقبل پر اعتماد دلایا جا سکے، کیونکہ لبنان میں نئی سیاسی تشکیل کا عمل جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق، قاسم کا پہلا معاہدہ نافذ کرنے پر اصرار اور کسی متبادل معاہدے پر گفت و شنید سے انکار دراصل امریکی ضمانتوں کے حصول کی کوشش ہے، تاکہ اسرائیل کو اس معاہدے پر عمل کرنے کا پابند بنایا جا سکے۔ اس صورت میں وہ اپنے عوام کے سامنے اسلحے سے دست برداری کو جواز دے سکیں گے اور خطے اور لبنان میں جاری تبدیلیوں کا حصہ بن سکیں گے۔
-
اسرائیل کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے رکن کو نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کا دعویٰ
حزب اللہ کی عسکری تنصیبات کی بحالی میں ملوث رضون یونٹ کے رکن کو فضائی کارروائی میں ...
مشرق وسطی -
تنازعے اور حزب اللہ کی تخفیفِ اسلحہ پر اسرائیل یا لبنان پر دباؤ نہیں ڈال سکتے:امریکی ایلچی
لبنان کے دورے پر آنے والے امریکی ایلچی ٹام براک نے پیر کو کہا ہے کہ حزب اللہ کو ...
بين الاقوامى -
شام: سویداء کا سکیورٹی حصار کرلیا گیا، درعا میں لوگوں کی واپسی شروع
حکومتی ثالثی کے بعد سویداء سے محصور خاندانوں کا انخلا شروع ہوگیا ہے: شام
مشرق وسطی