کانگو : باغیوں کا کیتھولک چرچ پر حملہ، 34 ہلاک
کانگو میں اتوار کے روز داعش کے حمایت یافتہ باغیوں نے کیتھولک چرچ پر حملہ کر کے 34 افراد کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
یہ پرتشدد واقعہ کانگو کے صوبہ ایتوری میں ہوا ہے۔ جو سول سوسائٹی کے نمائندوں نے 'اے پی' کو بتایا ہے۔
صوبہ ایتوری کے قصبے کومانڈا میں رات 1 بجے کے قریب چرچ پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے کے بعد کئی مکان اور دوکانیں بھی جل گئیں۔ حملے میں مارے جانے والے افراد کی لاشیں موقع پر پڑی ہیں جبکہ رضاکار ان کی تدفین کی تیاری کر رہے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ سارے مرنے والوں کو اسی چرچ کے صحن میں ایک اجتماعی قبر میں دفن کیا جائے گا۔
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چرچ کا سارا ڈھانچہ اور مرنے والوں کی لاشیں جل رہی ہیں۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کی شناخت ہونا مشکل ہے۔
اس کے علاوہ ایک قریبی گاؤں میں بھی چرچ سے پہلے حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کیا گیا۔
سول سوسائٹی کے رہنما موسی دہقانہ نے 'اے پی' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اس حملے کے بعد بعض لوگوں کو جنگلوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن نہیں معلوم کہ ان کی منزل کیا ہوگی۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ دونوں حملے کانگو کے باغی گروپ الائیڈ ڈیموکریٹک فورس نے کیے ہیں جو خود کو جمہوریت کی حامی بتاتی ہے۔
کانگو کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جیولز نگانگو نے 'اے پی' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ چرچ میں کم از کم 10 لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی مدد سے چلنے والے ایک ریڈیو کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد 43 ہے۔ ریڈیو نے یہ خبر سیکیورٹی حکام کی مدد سے دی ہے۔
یاد رہے الائیڈ ڈیموکریٹک فورس کا قیام 1990 کے اواخر میں لایا گیا تھا اور اسے داعش کی حامی خیال کیا جاتا ہے۔