العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نمائندے فیصل بن احمد کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر محمد ابو الرب نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر چھ مزید ممالک ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر ابو الرب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں منعقدہ بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس، جس کا مقصد فلسطینی مسئلے کا پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے کو عملی جامہ پہنانا ہے، اہم نتائج دے رہی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں ایک بین الاقوامی عبوری مشن کی تشکیل ہے، جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں اور علاقائی شراکت کے ساتھ فلسطین میں استحکام لانے اور غزہ و مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل کے اس کانفرنس میں آٹھ مختلف کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جو سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی امور پر کام کر رہی ہیں، تاکہ فلسطینی حکومت کے اصلاحاتی منصوبے اور ریاستی تعمیر کی راہ میں عملی اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔
ڈاکٹر ابو الرب کے مطابق، اقوام متحدہ کے نیویارک میں جاری اجلاس میں نہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کا ٹائم لائن پر مبنی منصوبہ زیر غور ہے بلکہ اس کے ساتھ غزہ پر اسرائیلی حملے روکنے، شہریوں کو بھوک کا شکار بنانے کے سلسلے کو بند کرنے، نسلی صفائی کی کارروائیوں کا خاتمہ اور بستیوں کی توسیع پر قدغن لگانے جیسے نکات بھی مرکزی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "علاقائی استحکام کی چابی اس امر میں ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے تمام جائز حقوق دیے جائیں، جنگ و جبر کا خاتمہ کیا جائے، اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔"
ڈاکٹر ابو الرب نے زور دے کر کہا کہ دو ریاستی حل کی اس کانفرنس میں شامل مختلف ملکوں کی آٹھ کمیٹیاں فلسطینی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر مشاورت کر رہی ہیں، اور یہ سعودی قیادت اور ریاض کی سفارتی متحرک پالیسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے مزید ممالک ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔