ایپسٹین اور میکسویل کے عدالتی بیانات جاری کیے جائیں: ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ، جو اپنی صدارت کو گھیرے ہوئے ہنگامے کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، نے دو ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ جیفری ایپسٹین اور اس کی گرل فرینڈ گیلین میکسویل پر جنسی سمگلنگ کے الزامات عائد کرنے والی گرینڈ جیوری کے سامنے دیے گئے بیانات کو جاری کریں۔

امریکی وفاقی پراسیکیوٹرز نے منگل کی شام عدالت میں دائر کی گئی عدالتی دستاویزات میں کہا تھا کہ ان کے مواد کا انکشاف مناسب ہوگا کیونکہ عوام کی جانب سے مرحوم فنانسر ایپسٹین اور قید برطانوی سماجی خاتون میکسویل کے کیس میں بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

ریپبلکن صدر ٹرمپ نے دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں ایپسٹین سے متعلق معاملات کو ظاہر کرنے کا وعدہ کیا تھا اور ڈیموکریٹس پر حقیقت چھپانے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم محکمہ انصاف نے اس مہینے کہا ہے کہ ایپسٹین کے گاہکوں کی وہ فہرست جس کی پہلے تشہیر کی گئی تھی درحقیقت موجود نہیں تھی جس سے ٹرمپ کے حامیوں میں غصہ پیدا ہوا ہے۔

محکمہ انصاف نے پہلی بار 18 جولائی کو عدالت سے اجازت طلب کی تھی کہ وہ برسوں پہلے دونوں مقدمات میں گواہوں کے خفیہ بیانات کے متنی ریکارڈ کو دستیاب کرائے لیکن مین ہٹن کے امریکی ضلعی عدالت کے جج رچرڈ برمن اور پال اینگلمیئر نے حکومت سے درخواستوں کی قانونی بنیادوں کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

ٹرمپ پر دباؤ ہے کہ وہ ایپسٹین کیس میں وفاقی تحقیقات کی دستاویزات کو ظاہر کریں جو 2019 میں جنسی سمگلنگ کے الزامات پر مقدمے کا انتظار کرتے ہوئے خودکشی کر چکا تھا ۔ اسی طرح میکسویل کے کیس سے متعلق ایپسٹین 2021 میں جنسی سمگلنگ کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ اگر ایک یا دونوں جج بیانات کو شائع کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو یہ واضح نہیں ہے کہ عوام کو کوئی نئی یا قابل ذکر معلومات معلوم ہوں گی۔

پراسیکیوٹرز نے عدالت میں دائر کردہ دستاویزات میں کہا ہے کہ ایپسٹین کیس میں گرینڈ جیوری کا واحد گواہ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کا ایک افسر تھا۔ وہی افسر اور نیویارک سٹی پولیس ڈپارٹمنٹ کا ایک اور تفتیش کار میکسویل کیس میں گرینڈ جیوری کے سامنے واحد گواہ تھے۔ میکسویل کے چار ہفتوں تک چلنے والے مقدمے میں 2021 میں مبینہ جنسی سمگلنگ کے متاثرین، ایپسٹین اور میکسویل کے شراکت داروں اور دونوں افسران کی عوامی گواہی شامل تھی۔ وہ اس وقت فلوریڈا میں 20 سال کی قید کی سزا کاٹ رہی ہیں اور انہوں نے امریکی سپریم کورٹ سے اپنی سزا کو منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں