"جاسوسوں کی تلاش".... ایرانی پاسداران انقلاب نے افغان طالبان سے "خفیہ فہرست" مانگ لی
ٹیلی گراف اخبار کے مطابق اس فہرست میں اُن افغانوں کے نام شامل ہیں جنہوں نے پناہ کی درخواست دی تھی، جن میں برطانوی فوج کے ساتھ کام کرنے والے فوجی، انٹیلی جنس اہل کار اور اسپیشل فورسز کے ارکان بھی شامل ہیں
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے طالبان سے برطانیہ کے لیے کام کرنے والے افغان شہریوں کی مبینہ "خفیہ فہرست" حاصل کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ برطانوی خفیہ ادارے (MI6) کے مبینہ افغان جاسوسوں کا پیچھا کیا جا سکے۔ برطانوی اخبار "ٹیلی گراف" کے مطابق ایرانی حکام تقریباً 25 ہزار افغان شہریوں کی اس فہرست کا جائزہ لینا چاہتے ہیں جو ماضی میں برطانوی افواج کے ساتھ کام کر چکے ہیں، تاکہ مغرب کے ساتھ آئندہ جوہری مذاکرات سے قبل ایران اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر سکے۔
فہرست میں ان افغانوں کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی، بشمول فوجی اہل کار، انٹیلی جنس افسران اور اسپیشل فورسز اہل کار ۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے کچھ ایران منتقل ہو چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک افغان شہری، جس کا نام فہرست میں تھا، ایران سے کابل واپس بھیج دیا گیا ہے۔
"سودے بازی کا خفیہ ذریعہ"
ایک اعلیٰ ایرانی اہل کار نے تصدیق کی کہ پاسدارانِ انقلاب نے طالبان سے یہ فہرست با ضابطہ طور پر مانگی ہے، اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ ایرانی حکام چاہتے ہیں کہ وہ ان افراد کو شناخت کر سکیں، خاص طور پر وہ جو ایران میں داخل ہو چکے ہیں، تاکہ انھیں حراست میں لے کر مستقبل میں مغرب سے سودے بازی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کی قیادت نے کابل میں حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ فہرست میں شامل زیادہ سے زیادہ افراد کو گرفتار کریں تاکہ انھیں برطانیہ پر سفارتی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
فروری 2022
یہ ڈیٹا بیس فروری 2022 میں اُس وقت افشا ہوا تھا جب برطانوی بحریہ کے ایک اہل کار نے فہرست کا پورا مواد غلطی سے افغان رابطوں کو ای میل کر دیا۔ فہرست میں افغان فوجیوں، سرکاری اہل کاروں اور اُن کے اہل خانہ کے کوائف شامل تھے جنھوں نے برطانیہ میں آباد ہونے کی درخواستیں دی تھیں۔ اس کے علاوہ 100 سے زائد برطانوی اسپیشل فورسز اور MI6 افسران کے نام بھی شامل تھے جنھوں نے ان افغانوں کی درخواستوں کی توثیق کی تھی۔
طالبان کے ایک اہل کار نے گزشتہ ماہ ٹیلی گراف اخبار کو بتایا تھا کہ انھوں نے یہ فہرست 2022 میں حاصل کی، اور اس کے بعد اس کی اہمیت ان پر واضح ہوئی، اس لیے وہ اب اس فہرست کے افراد کو برطانیہ کے خلاف سفارتی دباؤ کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت اپنے حساس عہدوں پر فائز اہل کاروں کی سلامتی کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور ان کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات موجود ہیں۔
انخلا کے لیے پروازیں
رپورٹ کے مطابق طالبان کے بعض سابق ارکان بھی اس فہرست کے افشا ہونے کے بعد برطانوی انخلا کی پروازوں کے ذریعے برطانیہ پہنچے۔ ان میں بعض مشتبہ شدت پسند، جنسی جرائم میں ملوث افراد، بد عنوان افسران اور وہ افراد بھی شامل تھے جنھیں پہلے امریکی افواج قید کر چکی تھیں۔ اس کے نتیجے میں جانچ پڑتال کے کمزور نظام پر سوالات اٹھائے گئے۔
ستمبر 2023 میں برطانوی حکومت نے اس ڈیٹا لیک سے متعلق میڈیا رپورٹنگ پر سخت عدالتی پابندی عائد کر دی تھی، کیونکہ اسے حالیہ تاریخ کا سنگین انٹیلی جنس افشاء قرار دیا گیا۔
ایرانی درخواست ایسے وقت میں آئی ہے جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کو جوہری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں اقوامِ متحدہ کی پرانی پابندیاں (ٹریگر میکانزم) دوبارہ نافذ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس حوالے سے 30 اگست تک کی مہلت مقرر کی گئی ہے۔