پاکستان، چین اور افغانستان کا دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی خاطر مل کر کام کرنے کا عزم

چھٹے سہ فریقی وزرائے خارجہ اجلاس میں سی پیک منصوبے کو افغانستان تک توسیع دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان، چین اور افغانستان نے دہشت گردی کے خطرے کے خلاف مشترکہ کوششوں کو بڑھانے اور کئی اہم شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عزم کیا ہے۔ یہ پیش رفت کابل میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار اور ان کے چینی اور افغان ہم منصبوں، وانگ یی اور امیر خان متقی کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے تعاون کے مسائل پر ہونے والے چھٹے سہ فریقی وزرائے خارجہ مذاکرات میں سامنے آئی۔

دفتر خارجہ نے اس ملاقات کے بارے میں کہا کہ تینوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے کا عزم کیا۔ انہوں نے تجارت، ٹرانزٹ، علاقائی ترقی، صحت، تعلیم، ثقافت اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ سی پیک (چائنا پاکستان اقتصادی راہداری)کی افغانستان تک توسیع میں بھی تعاون کو گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس سے قبل اسحاق ڈار نے امیر خان متقی سے سائیڈ لائن پر ملاقات کی اور دونوں نے سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اظہار اطمینان، اور انسداد دہشت گردی اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ملکر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔دفتر خارجہ نے کہا کہ فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی نمائندگی کو ناظم الامور سے سفیر کی سطح تک حال ہی میں بڑھائے جانے کا خیرم قدم کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے اس امر کو سراہا کہ حالیہ مذاکرات کے زیادہ تر فیصلوں پر یا تو عمل درآمد ہو چکا ہے یا وہ مکمل ہونے کے قریب ہیں، اور یہ بھی کہا کہ ان کوششوں نے دو طرفہ تعلقات کو خاص طور پر تجارت اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیر خارجہ اسحق ڈار نے سیاسی اور تجارتی تعلقات میں حوصلہ افزا پیشرفت کو تسلیم کیا جبکہ سلامتی کے میدان میں پیشرفت، خاص طور پر انسداد دہشت گردی میں پیچھے رہ گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے پاکستان کے اندر افغان سرزمین سے سرگرم گروپوں کی طرف سے کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں حالیہ اضافے کو اجاگر کیا۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ کالعدم گروپوں جیسے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی/مجید بریگیڈ کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کریں۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ امیر خان متقی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد گروپ کی جانب سے پاکستان یا دیگر اقوام کے خلاف استعمال نہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

قبل ازیں وزیر خارجہ اسحق ڈار آج اس سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے کابل پہنچے جہاں ان کا استقبال افغان نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد نعیم، دیگر افغان حکام اور پاکستان کے افغانستان میں سفیر عبید الرحمن نظامی نے کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں