پاکستانی حکومت کےدباؤ میں اضافہ:بےدخل افغان مہاجرین اسلام آباد کےپارک میں پناہ لینےپرمجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

گھروں سے نکالے گئے اور شدید بارشوں کے بعد پلاسٹک کی چادروں میں لپٹے ہوئے افغان مہاجرین اسلام آباد میں سرکاری دفاتر کے قریب ایک پارک میں پناہ گزین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ پاکستانی حکومت مکان مالکان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ دستاویزات کے حامل افغان خاندانوں کو کرائے کے گھروں سے نکال دیں۔

ان میں افغانستان کی ہزارہ اقلیت سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ سامعہ بھی شامل ہیں جن کے ہاں صرف تین ہفتے قبل بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ یہ شیعہ برادری طویل عرصے سے اپنے آبائی ملک میں مسائل کا شکار ہے۔

"میں یہاں اس وقت آئی تھی جب میرا بچہ سات دن کا تھا اور اب 22 دن ہو چکے ہیں۔۔ ہمارے پاس کھانا نہیں ہے اور میرا بچہ بیمار تھا لیکن کوئی ڈاکٹر نہیں تھا،" گیلے کپڑوں اور مٹی سے آلودہ جوتوں میں ملبوس سامعہ نے اپنے بیٹے دانیال کو گود میں لیے ہوئے کہا جس کا جسم خارش کی وجہ سے سرخ تھا۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے یکم ستمبر کی ڈیڈلائن سے پہلے دستاویز شدہ افغانوں کو ملک بدر کرنا شروع کر دیا ہے جس سے دس لاکھ سے زیادہ افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

تقریباً 1.3 ملین پناہ گزینوں کے پاس رجسٹریشن والی دستاویزات ہونے کے باوجود یہ کارروائی عمل میں آئی ہے جبکہ 750,000 کے پاس پاکستان کے جاری کردہ افغان شناختی کارڈ ہیں۔

سامعہ اب ان 200 خاندانوں کے ساتھ پارک کی گیلی زمین پر رہتی ہیں جو وہیں کھانا پکاتے، سوتے اور راتوں کو بارش ہونے کے بعد اپنا سامان خشک کرتے ہیں۔ پلاسٹک کی چادریں عارضی پناہ گاہوں کا کام دیتی ہیں اور بچے اور والدین مٹی، دھوپ اور بھوک سے لڑتے ہوئے اپنے دن گذارتے ہیں۔

خاندان مل کر تھوڑی بہت رقم جمع کر کے آلو یا سکواش خریدتے ہیں اور کھلی آگ پر تھوڑا تھوڑا کر کے پکا کر کئی لوگ مل کر کھاتے ہیں۔ خواتین قریبی مسجد کا غسل خانہ استعمال کرتی ہیں۔

ہزارہ برادری کی ایک اور رکن 23 سالہ ساحرہ بابر جو نو ماہ کی حاملہ ہیں، آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے بولیں، "اگر میرا بچہ ان حالات میں پیدا ہوا تو میرا اور اس کا کیا ہو گا؟" نیز انہوں نے کہا کہ پولیس نے ان کے مالک مکان سے کہا کہ وہ ان کے خاندان سے مکان خالی کروا لیں کیونکہ وہ افغان ہیں۔

جب رائٹرز نے پاکستان کے دارالحکومت میں کیمپ کا دورہ کیا تو درجنوں پولیس اہلکار پارک کے کنارے کھڑے تھے۔ پناہ گزینوں نے کہا کہ افسران انہیں باقاعدگی سے کہتے ہیں کہ وہ وہاں سے چلے جائیں یا انہیں نکال دیا جائے گا۔

پولیس نے ہراساں کرنے کی تردید کی۔ ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل جواد طارق نے کہا کہ پناہ گزینوں سے صرف رضاکارانہ طور پر نکلنے یا ہولڈنگ سینٹرز میں جانے کے لیے کہا گیا تھا۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے تبصرہ کی درخواست کرنے والے ٹیکسٹ میسج کا جواب نہیں دیا۔

پناہ گزین کہتے ہیں کہ وہ برسوں سے بے حال ہیں۔ ایک افغان اور سابق ٹیلی ویژن صحافی 22 سالہ دیوا ہوتک نے کہا، "یو این ایچ سی آر نے ہم سے وعدے کیے لیکن وہ ہمیں دیکھنے نہیں آئے۔"

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے صورتِ حال کو "غیر یقینی" قرار دیا اور مزید کہا، جو افغان باشندے اپنے قیام کو باضابطہ بنانے سے قاصر ہیں، انہیں گرفتاری، ملک بدری اور بے گھری کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایجنسی اسلام آباد پر رجسٹریشن کا ایک طریقہ کار بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور اس نے لوگوں کے ایسے ملک میں واپس نہ جانے کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے جہاں ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

کیمپ میں موجود کئی لوگوں نے کہا ہے کہ خطرات کی وجہ سے وہ واپس افغانستان نہیں جا سکتے۔

افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے سابق مشیر احمد ضیا فیض نے کہا، انہیں سابقہ افغان حکومت میں خدمات انجام دینے پر انتقامی کارروائیوں کا خدشہ ہے۔ "اگر ہم افغانستان واپس گئے تو ہماری جانوں کو خطرہ ہے۔"

پاکستان جو 1979 کے سوویت حملے کے بعد سے لاکھوں افغانوں کی میزبانی کر رہا ہے، نے 2023 کے کریک ڈاؤن کے تحت بے دخلی میں تیزی پیدا کی ہے اور افغانوں کو جرائم اور دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ کابل نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ہمسایہ ملک ایران کے دس لاکھ سے زیادہ افراد کو ملک بدر کرنے کے منصوبے سے افغان مہاجرین کی واپسی کے بحران میں اضافہ ہوا ہے جسے امدادی گروپ 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد سب سے بڑا اضافہ قرار دیتے ہیں۔

اسلام آباد کے پارک میں سبز گھاس اور پر سکون نظارے وہاں ڈیرے ڈالنے والوں کی زندگیوں کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ سامعہ نے اپنے نوزائیدہ بچے کو تھامے ہوئے کہا، "دنیا کے لیے میرا پیغام ہے کہ ہماری صورتِ حال دیکھیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں