سلامتی کونسل کی فہرست میں دہشت گردی کے دہرے معیار پر پاکستانی مندوب پھٹ پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں عالمی برادری کو جھنجھوڑنے والی تقریر کی، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں ایک بھی غیر مسلم نام شامل نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل دنیا کو مزید تقسیم کر رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اجتماعی کوششوں کو کمزور بنا رہا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسے غیر مسلم انتہا پسند موجود ہیں جنہوں نے دہشت گردی اور شدت پسندی کو بڑھاوا دیا، لیکن عالمی ادارے کی فہرست میں ان کا کوئی نام نہیں، جبکہ مسلمان افراد کو یکطرفہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ رویہ کھلا دہرا معیار ہے، جو نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف اصل جدوجہد کو بھی کمزور کرتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ دہشت گرد گروہ اب ڈیجیٹل دنیا میں بھی سرگرم ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ اس کے اثرات مثبت ثابت ہوں۔

پاکستانی مندوب نے دنیا کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ جیسی تنظیموں سے شدید خطرات لاحق ہیں، جنہیں افغان سرزمین سے معاونت حاصل ہے۔ یہ عناصر پاکستان کی قومی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے براہِ راست چیلنج ہیں۔ انہوں نے داعش خراسان کے پھیلاؤ کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ یہ گروہ اب بھی عراق، شام اور افغانستان میں ہزاروں جنگجوؤں کے ساتھ متحرک ہے۔

عاصم افتخار احمد نے بھارت پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ نئی دہلی نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے مئی میں ہونے والے ایک بھارتی حملے کی مثال دی جس میں 54 بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی دہشت گردی کو انسدادِ دہشت گردی کے نام پر پیش کرنا ایک خطرناک رجحان ہے اور عالمی ادارے کو اس پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ قبضہ اور ظلم کو کسی صورت انسدادِ دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

خطاب کے اختتام پر پاکستانی مندوب نے پرزور مطالبہ کیا کہ دنیا ایک جامع، غیر جانبدار اور منصفانہ حکمت عملی اپنائے جو کسی خاص مذہب یا کمیونٹی کو بدنام کرنے کے بجائے دہشت گردی کی اصل جڑوں پر حملہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن صرف اس وقت قائم ہو سکتا ہے جب انصاف کے ساتھ اجتماعی طور پر دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں