اگر ہم فلسطین کو تسلیم نہیں کرتے تو حکمران اتحاد کو خطرہ ہے: وزیر خارجہ بیلجیئم
سعودی عرب اور فرانس ستمبر میں نیویارک میں دو ریاستی حل کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے
بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے حکمران اتحاد کے اقدامات میں رکاوٹ ڈالنے کی دھمکی دی ہے اگر اتحاد کے دو اراکین اسرائیل کے خلاف پابندیوں اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر اعتراض کرتے رہتے ہیں۔ میکسم پریووٹ (کرسچن ڈیموکریٹ) نے صحافتی بیانات میں کہا کہ اگر فرانکوفون لبرل اور فلیمش نیشنلسٹ جماعتیں اسرائیل کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک مضبوط موقف اپنانے کی ان کی تجویز پر اعتراض کرتی رہیں اور اتحاد نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت میں کوئی کارروائی نہیں کی تو حکمران اتحاد کو ایک گہرے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزیر خارجہ میکسم پریووٹ کی یہ وارننگ بیلجیئم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور کی طرف سے بدھ کو بلائے گئے غیر معمولی اجلاس سے دو دن پہلے آئی ہے جس کا مقصد اسرائیل کے خلاف پابندیوں اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے معاملے پر اتحادی جماعتوں کے درمیان ایک متحد موقف تک پہنچنا ہے۔ فلسطینی مسئلے پر حکمران اتحاد میں تقسیم وزیر خارجہ میکسم پریووٹ کی طرف سے فلسطینی مسئلے پر یورپی سطح پر جاری بحث میں حصہ لینے کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے۔
اسرائیل کے خلاف پابندیوں، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور یوکرین میں جنگ کے مسائل جمعہ اور ہفتہ کو ڈنمارک میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سرفہرست ہوں گے۔
اس کے علاوہ بیلجیئم کے وزیر خارجہ اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ اور اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر بن گویر کے داخلے کو روکنے کا فیصلہ تیار کر رہے ہیں۔ بیلجیئم کے وزیر خارجہ اگلے بدھ کو ہنگامی حکومتی اجلاس کے دوران اس فیصلے کو پیش کرنے والے ہیں۔ گزشتہ ہفتے فرانسیسی صدر میکروں نے انکشاف کیا تھا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ مل کر اگلے ستمبر میں نیویارک میں دو ریاستی حل کانفرنس کی مشترکہ صدارت کرے گا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ریاض اور پیرس ایک ایسے پابند راستے کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور علاقائی امن کے مواقع کو بڑھاتا ہے۔
گزشتہ جون میں اقوام متحدہ نے دو ریاستی حل اتحاد کی کانفرنس کی میزبانی کی تھش جس کی مشترکہ صدارت سعودی عرب اور فرانس نے کی۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسی کانفرنس کی اختتامی دستاویز کو اپنایا جس کا مقصد 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے حل کی تصویر کو مستحکم کرنا ہے۔ فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک گزشتہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔ فرانس کے علاوہ جی 20 کے رکن ممالک کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اندورا، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، لکسمبرگ، مالٹا، نیوزی لینڈ، ناروے، پرتگال، سان مارینو، سلووینیا اور سپین بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کر چکے ہیں۔
-
سعودی عرب نے غزہ کے لیے 58 طیارے اور 8 امدادی بحری جہاز روانہ کیے
غزہ میں انسانی بحران کے دوران فوری امداد کا سلسلہ جاری
مشرق وسطی -
غزہ کے الناصر ہسپتال پر اسرائیلی حملہ: صحافیوں سمیت کم از کم 15 افراد جان سے گئے
فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ پیر کے روز غزہ میں ناصر ہسپتال پر اسرائیلی ...
مشرق وسطی -
غزہ کے لئے 100 ٹن امدادی سامان پر مشتمل 21 ویں کھیپ بذریعہ خصوصی پرواز روانہ
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر غزہ کے لئے علامہ اقبال انٹر نیشنل ایئر ...
ایڈیٹر کی پسند